03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی کی اجازت اور پسند کے بغیر ولی کی طرف سے نکاح کرانے کا حکم
79508نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میرے نکاح کے وقت نکاح نامہ پر کچھ نہیں لکھا ہوا تھا، اور  میرے والد اور بھائی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا، اور نکاح نامہ پر سائن کروا لیے۔ نکاح کے وقت مجھے کسی سے محبت تھی، نکاح کے وقت میرے دل میں یہی ارادہ تھا کہ چاہے مَیں اس کاغذ پر سائن کر رہی ہوں، پَر بیوی اُسی کی ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔ اور میرا جس سے نکاح ہوا ہے وہ نامرد ہے اور سود کے معاملات بھی ہیں، کیا میرا نکاح ہوگیا یا نہیں؟

وضاحت: سائل نے بذریعہ ای میل یہ بتایا ہے کہ لڑکی نکاح کے وقت بالغہ تھی، اور جس سے نکاح ہو رہا تھا، وہ معلوم بھی تھا، البتہ قبول نہیں تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح وغیرہ عقود میں ظاہری الفاظ یا تحریر کا اعتبار ہوتا ہے، دل کی نیت یا ارادہ کانہیں، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں جب آپ نے نکاح نامہ پر دستخط کرلیے تھے اور آپ کو پتا تھا کہ نکاح کس سے ہو رہا ہے، تو ایسے میں یہ نکاح منعقد ہو گیا ہے، اس لیے جن سے آپ کا نکاح ہوا ہے وہ آپ کے شوہر ہیں، اور آپ پر اُن کے سارے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (2/1037):

"عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا».

الفتاوى الهندية (1/287):

"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا، فإن فعل ذلك، فالنكاح موقوف على إجازتها، فإن أجازته جاز، وإن ردته بطل. كذا في السراج الوهاج."

الفتاوى الهندية (1/287):

"إذا مكنت الزوج من نفسها بعدما زوجها الولي، فهو رضا، وكذا لو طالبت بصداقها بعد العلم، فهو رضا، هكذا في السراج الوهاج. وإذا قال لها الولي: أريد أن أزوجك من فلان بألف، فسكتت، ثم زوجها، فقالت: لا أرضى، أو زوجها ثم بلغها الخبر، فسكتت، فالسكوت منها رضا في الوجهين جميعا إذا كان المزوج هو الولي."

الدر المختار (3/58):

"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح)؛ لانقطاع الولاية بالبلوغ، (فإن استأذنها هو) أي الولي، وهو السنة، (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها، وأخبرها رسوله أو فضولي عدل (فسكتت) عن رده ... (فهو إذن) ... (وكذا إذا زوجها الولي عندها) أي بحضرتها، (فسكتت) صح (في الأصح) إن علمته."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

23/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب