03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرد کا برقع پوش لڑکیوں کو تعلیم دینے کا حکم
79515جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا امام صاحب کا چھوٹی و بڑی لڑکیوں کو برقع پوش حالت میں آمنے سامنے تعلیم دینا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کے محلے میں بچیوں کو پڑھانے کے لیے معلمہ موجود ہیں، تو امام صاحب کا بچیوں کو پڑھانا درست نہیں ہے، لیکن اگر معلمہ بچیوں کو تمامتر دین کی بنیادی تعلیمات دینے سے قاصر ہوں، تو امام صاحب درجِ ذیل شرائط کے ساتھ اُن کو تعلیم دے سکتے ہیں:

1. بالغ لڑکیاں مکمل حجاب میں تعلیم حاصل کریں۔

2. استاذ اور لڑکیوں کے درمیان ایک بڑی چادر یا پردہ حائل ہو۔

3. استاذ غیر ضروری باتوں سے اجتناب کریں۔

4. پڑھانے کے بعد وہاں بغیر ضرورت کے نہ ٹھہریں۔

5. بہتر یہ ہے کہ استاذ شادی شدہ ہوں۔

بچیوں کی حاضری لینے اور اُن سے پوچھ گچھ کے لیے کوئی خاتون مقرر ہو۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/37):

"عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلى النِّسَاءِ».

صحيح البخاري (7/37):

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي محرَمٍ»، فقام رجل، فقال: يا رسول الله، امرأتي خرجت حاجة، واكتتبت في غزوة كذا وكذا، قال: «ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ».

سنن الترمذي (3/467):

"عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَا تَلِجُوا عَلى المُغِيبَاتِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يجرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مجرَى الدَّمِ»، قلنا: ومنك؟ قال: «وَمِنِّي، وَلَكِنَّ الله أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ».

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

23/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب