| 79513 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
Bogo app and bookاس ایپ میں مختلف طرح کی کمپنیوں (جن میں ہوٹل،کپڑے زیورات کی کمپنیاں وغیرہ شامل ہیں) کی طرف سے ڈسکاؤنٹ فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ایپ یا کتاب پیسوں کے عوض فروخت کی جاتی ہے، لیکن مجھے اس ایپ کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم نہیں ہیں، گزارش ہے کہ اس کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے بعد بتائیے کہ اس ایپ کے ذریعے خریداری جائز ہے یا نا جائز ہے۔
وضاحت (1):بوگو کاروبار کے مالک نے اپنے کاروبار کی وضاحت جامعہ دار العلوم کراچی سے ایک استفتاء میں کی ہے، اُس کو بعینہٖ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
"عرض یہ ہے کہ ہم " بو گو" کے نام سے کاروبار چلاتے ہیں، جس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ ہم مختلف ریسٹورینٹ اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے رابطہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کی مارکیٹنگ اور تشہیر کریں گے ، جس کے عوض آپ ہمارے بھیجے ہوئے کسٹمرز کو اس کی خریدی ہوئے چیز (مثلا برگر کے ساتھ) اس جیسی دوسری چیز ( مثلاً دوسرا برگر) مفت میں فراہم کرنا ہو گا۔ جو ریسٹورینٹس ہماری اس آفر پر راضی ہوتے ہیں ہم ان کے نام کے کو پن اپنے بو گو بک اور بوگو اپلیکیشن میں شامل کر لیتے ہیں جس سے انکی مارکیٹنگ ہوتی ہے۔ اور جور سینٹورینٹس اس پر راضی نہیں ہوتے ، ان کی ہم مارکیٹنگ نہیں کرتے (یعنی انکے نام کے کو پن اپنی بک میں شامل نہیں کرتے) واضح رہے کہ ہمارا کسی ریسٹورنٹس کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہیں ہو تا کہ آپ ہمارے کسٹمرز کو اس وقت مفت میں چیز دیدیں بعد میں ہم اس کی قیمت دیدیں گے۔ دوسری طرف ہم ان ریسٹورنٹس کے نام کے کو پن چھپوا کر ایک بک (بوگو بک) بنالیتے ہیں اور وہ اپنے کسٹمرز کو فروخت کرتے ہیں، جسکی قیمت اٹھائیس سوروپے ہوتی ہے، یا اپلیکیشن فروخت کرتے ہیں جو بائیس سوروپے کی ہوتی ہے، اس میں بہت سے ( پانچ سو ) کو پن ہوتے ہیں، جب بھی گاہک ان ریسٹورنٹس سے خریداری کرتا ہے تو کو پن دکھا کر اس جیسی ایک اور چیز مفت میں حاصل کر سکتا ہے، مثلاً اس نےKFC" " سے تین سو کا برگر خریدا اور کو پن دکھایا تو اس پر اسے ایک اور برگر فری مل جائیگا، اور جیسے ہی اس نے کو پن استعمال کیا، ویسے ہی اس کے پاس میسج آئیگا،you Have saved 300 rupees یعنی تین سو روپے بچائے۔ ہمارے اس کاروبار کو دیکھا جائے تو ہم خود کوئی چیز خرید کر فروخت نہیں کرتے، بلکہ در حقیقت ہم سستا معاملہ کروانے کی بروکری اور رابطہ کار کی خدمت فراہم کر کے اسکا عوض وصول کرتے ہیں۔ ہم نے دار الافتاء سے فتویٰ لیا تھا جس کے سوال میں کاروبار کی زیادہ وضاحت نہیں کی تھی، اور فتویٰ ناجائز ہونے کا آیا تھا۔ اب ہم نے کاروبار کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا ہے، ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ یہ کاروبار بروکری اور سمسرہ کی بنیاد پر جائز ہو سکتا ہے بس یہ کیا جائے کہ شروع میں لی جانے والی رقم کو صرف چار معاملوں کی اجرت بنالی جائے باقی کو پن کا استعمال فری ہو ، اور سال کے آخر میں اگر کسی گاہک نے چار خریداریاں مکمل نہ کی ہوں تو اٹھائیس سو میں سے اس کے بقدر ر قم واپس کردی جائے۔ ہم اپنے کاروبار میں اس تبدیلی پر راضی ہیں۔"
وضاحت (2): بوگو کے ویب سائٹ پر ان کے کاروبار کے شرائط و ضوابط دیکھنے سے معلوم ہوا کہ انہوں اپنے کاربار کا ماڈل سمسرہ اور دلالی پر تشکیل دیا ہے اور رقم پہلے پانچ معاملوں کی اجرت کے طور پر لیتے ہیں۔ ان کے کاروبار کی شرائط و ضوابط ان کے ویب سائٹ سے بعینہٖ نقل کیے جاتے ہیں:
General Terms and Conditions
General Terms
· Relationship between customer and Bogo is on the basis of brokerage (Samsara) in which Bogo refers customer towards outlets/brands with free vouchers. The amount that will be charged from customers is the brokerage fee against this referral.
· Subject matters of that Brokerage fees are those five vouchers that customers will use them in the beginning. Rests of the vouchers are given to customer complimentary.
· Offers can be used anytime excluding the following days and any other public holidays as announced by governments (subject to the discretion of the restaurant), Eid Al Fitr, Eid Al Adha, New Year’s Eve, New Year’s Day, Independence Day, etc.
· Please note, a limited number of outlets may be closed during summer, Ramadan, and other selected religious holidays. BOGO cannot be held responsible if an outlet is temporarily or permanently closed during the voucher validity period.
· Offers are not transferable and are void if purchased, sold or bartered for cash.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سمسار یا دلال (Commission Agent)کے لیے فیصدی کمیشن یا لم سم کوئی متعین اجرت باقاعدہ طے کرکے لینا جائز ہے۔ بوگو والے چونکہ دلال اور سمسار کےطور پر کام کرتے ہیں اور ان کی ایپ یا بک بائع کے سامان پر دلالت کرتا ہےاور وہ شروع میں رقم اپنی اس خدمت کے اجرت کے طور پر لیتے ہیں لہٰذا اُن کا یہ رقم لینا درست ہے اور اس بک یا ایپ کے ذریعے خریداری درست ہے۔
بوگو والوں نے اپنے کاروبار کا ماڈل سمسرہ علی المشتری پر رکھا ہےجس میں اگر مشتری پانچ خریداریاں کرے تو ٹھیک ورنہ بوگو والوں کو باقی خریداریوں کے بقدر رقم واپس کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا اس کی بہتر تکییف یہ ہے کہ اس کو سمسرہ علی البائع پر تشکیل دیا جائے اور رقم مشتری کے بجائے تجارتی ادارے سے لی جائے،چونکہ بوگو والے تجارتی ادارے کے لیے حقیقتاًمارکیٹر ہیں لہٰذا ان کے لیے رقم تجارتی ادارے سے لینا زیادہ بہتر ہے ۔ اس صورت میں چاہے مشتری خریداری کریں یا نا کریں ،ان کو رقم واپس کرنے کی نوبت نہیں آئیگی اور تجارتی ادارہ جو پہلے تمام ڈسکاؤنٹ مشتری کو دیتا تھا وہ کچھ رقم کی صورت میں بوگو والوں کو دیں اور کچھ ڈسکاؤنٹ کی صورت میں مشتری کو۔
حوالہ جات
عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية-لإمام محمد عبد الحي اللكنوي (8/ 414)
السمسار، بكسر السين: هو المتوسط بين البائع والمشتري، فارسية معربة، تجمع على سماسرة: يبيع ويشتري للناس بأجر من غير أن يستأجر. انتهى. وهكذا في ((التبيين))(5: 67)، وقريب منه ما في ((النهاية الجزرية)): هو المتوسط بين البائع والمشتري؛ لإمضاء البيع. انتهى. وقال العلامة الشامي في ((رد المحتار))[ينظر: (4: 490)]: لا فرق لغة بين السمسار والدلال، وقد فسرهما في ((القاموس))(2: 53): بالمتوسط بين البائع والمشتري، وفرق بينهما الفقهاء، فالسمسار هو الدال على مكان السلعة وصاحبها، والدلال هو المصاحب للسلعة غالبا، أفاده سري الدين عن بعض المتأخرين. انتهى.
جامع الفصولين (2/ 114)
ولو سعى الدلال بينهما فباع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالية على البائع أو على المشتري أو عليهما بحسب العرف وسئل بعضهم عمن قال للدلال أعرض أرضي على البيع وبعها ولك أجر كذا فعرض ولم يتم البيع ثم أن دلالاً آخر باع فإن للدلال الأول أجراً بقدر عمله وعنائه.
مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان (ص: 85)
(مادة 525) إذا باع الدلال مالاً لآخر بنفسه تجب أجرة الدلال على البائع لا على المشتري ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 429)
أنه لا يلزم تعيين المدة في استئجار السمسار والدلال والاغتسال في الحمامات وما إلى ذلك مما لا يمكن تعيين العمل والوقت لها : أي أنه وإن لم تعين فيها المدة فالإجارة صحيحة لحاجة الناس إليها وكل شيء تمس الحاجة إليه فالقياس فيه الجواز.
حاشية ابن عابدين (6/ 63)
مطلب في أجرة الدلال: تتمة قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23/رجب الخیر/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


