| 79556 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مَیں ایک اسکول ٹیچر ہوں، ہماری ماہانہ تنخواہ میں سے G.P.F کی کٹوتی ہوتی ہے، اور ہر سال کے اختتام پر اُس پر کچھ فیصد نفع دیا جاتا ہے، کیا یہ نفع صحیح ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومت ملازمین کی تنخواہ سے جنرل پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے جو رقم کاٹتی ہے، اُس کی دو صورتیں ہوتی ہیں:
1. ایک صورت تو یہ ہوتی ہے کہ ملازمین کا اُس رقم کی کٹوتی میں کوئی دخل نہیں ہوتا، بلکہ غیر اختیاری طور پر محکمہ تنخواہ کا مخصوص متعین حصہ کاٹ لیتا ہے۔
یہ رقم ملازم کے لیے حلال ہے، اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ شرعاً سود نہیں ہے، اس لیے اس کا وصول کرنا اور استعمال کرنا جائز ہے۔
2. پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری صورت یہ ہے کہ ملازمین اپنے اختیار سے G.P فنڈ میں تنخواہ کی مخصوص رقم کٹواتے ہیں۔
یہ رقم بھی ملازم کے لیے حلال ہے، البتہ اس رقم پر جو نفع دیا جاتا ہے، اُس کے بارے میں علماء کی تحقیق یہ ہے کہ ملازم چونکہ اپنے اختیار سے G.P فنڈ میں تنخواہ کی مخصوص رقم کٹوا کر اُس سے نفع وصول کرتا ہے، یہ اگرچہ سود نہیں ہے، تاہم سود کا شبہ اس میں موجود ہے، اور یہ سود خوری کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے یہ نفع و صول نہیں کرنا چاہیے، اور اگر وصول کرلے تو صدقہ کرے۔
حوالہ جات
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
24/رجب الخیر/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


