| 79554 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں اپنےشوہر کی دوسری بیوی ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ شوہر اکثر بیمار رہتے ہیں۔میرے گھریلو حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔ مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے ورثاء ان کے انتقال کے بعد مجھے میرے شرعی حق سے محروم کر سکتے ہیں۔ کیا میں اس بات کا مطالبہ کر سکتی ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی مجھے جائیداد سے حصہ دے دیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث کا استحقاق انسان کی وفات کے وقت ہوتا ہے لیکن اگر اس بات کا اندیشہ ہو میراث شرعی طور پر تقسیم نہ ہوپائے گی تو اس کو منصفانہ طور پر اپنی زندگی میں تقسیم کردینا بھی جائز ہے لیکن اس وقت اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس کا میراث میں جتنا حصہ بنتا ہو اس کو اس ہی تناسب سے ہبہ کیا جائے۔
صورت مذکورہ میں آپ اپنے شوہر سے یہ مطالبہ کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی جائیداد کو اپنی زندگی ہی میں اپنے تمام ورثہ کے درمیان تقسیم کر دیں، البتہ شوہر اس مطالبہ کو پورا کرنے کے شرعی طور پر پابند نہیں ہونگے لیکن انہیں اپنی صوابدید سے کچھ ایسا بندوبست کر دینا چاہیے جس سے ان کے بعد آپ کو میراث کا حصہ شرعی مل سکے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (4 / 444):
وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض روى عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره ۔
وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى
وقال محمد يعطى للذكر ضعف الأنثى۔
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۶ رجب ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


