| 79546 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
میں نے بچوں کی شادی کےلیے دوعدد بی سی ڈالی تھیں،جوکہ سال کے آخر میں مجھے ملے گیں،کیا مجھے رمضان میں اس کی زکوة دینا ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کمیٹی وصول نہ کی ہو تو اس میں جتنی رقم(قسطیں) جمع کروائی جاچکی ہے اگر وہ تنہا یا دوسرے اموال کے ساتھ مل کر زکاۃ کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے تو اس رقم کی زکاۃ ادا کی جائے گی، البتہ فوری انتظام نہ ہو تو یہ اختیار ہے کہ جب بی سی کی رقم مل جائے اس وقت زکاۃ ادا کی جائے۔ اور اگرپہلے سے صاحب نصاب نہیں ہے اور کمیٹی میں جمع کردہ رقم زکاۃ کے نصاب کے برابر نہیں تو اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔اگر کمیٹی وصول کرلی ہے، تو زکوۃ کی ادائیگی کے وقت کمیٹی کی جو رقم اس کے پاس موجود ہوگی، اس مجموعی رقم میں سے جتنی قسطیں باقی ہیں، وہ سب قرضہ ہیں، انہیں منہا کرکے بقیہ رقم کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
حوالہ جات
و في الدرالمختار(2/305):
"إنّ الدیون عند الإمام ثلاثة: قوي و متوسط و ضعیف، فتجب زکاتھا إذا تمّ نصابًا و حال الحول لکن لافورًا، بل عند قبض أربعین درهمًا من الدین القوي کقرض وبدل مال تجارۃ، فکلّما قبض أربعین درهمًا یلزمه درھم الخ
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/رجب1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


