| 79592 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
کیا کباڑیے سے چوری کی کوئی چیز خریدنا جائز ہے،جب کہ وہ قیمت ادا کر کے اس چیز کو خریدے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چوری کامال جتنے ہاتھوں میں بھی چلاجائے وہ حرام ہی رہتا ہے اوراصل مالک کے علاوہ کوئی دوسرا اس کامالک نہیں بنتا، اس لیے چوری کےمال کی خریدو فروخت کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
روی الإمام أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي رحمہ اللہ عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلى اللہ عليه وسلم أنه قال: من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة، فقد أشرك في عارها وإثمها.
(السنن الكبرى:رقم الحدیث 10826)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(الدر المختار معردالمحتار:5/99)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله 🙁الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك. (الدرالمختار مع رد المحتار:5/98)
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
27رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


