03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد صاحب کا پلاٹ تمام ورثاء کا ہے
79565میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا ایک پلاٹ ریلوے سوسائٹی میں تھا، اُن کی نیت یہ تھی کہ ہم سب بہن بھائی اس میں مل کر رہیں۔ پھر میرے والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے، تو سوسائٹی والوں نے پلاٹ میرے نام کردیا، کیونکہ مَیں سب سے بڑا تھا۔ بعد میں مَیں نے اُس پلاٹ پر اپنا ذاتی گھر بنالیا، اور باقی لوگ اُسی پرانے مکان میں رہائش پذیر ہیں، جس میں وہ پہلے سے رہ رہے تھے۔ اس پلاٹ کا کام 1993ء میں شروع ہوا تھا، اور 2005ء میں مکمل ہوا۔ ان تمام سالوں میں جو بھی تعمیر پر خرچ ہوا، میرا ذاتی پیسہ تھا۔ اس پلاٹ کے علاوہ برابر والی اضافی زمین (193.33 گز) کا چالان بھر کر مَیں نے اس کو بھی پلاٹ میں ملا لیا تھا۔ قانونی طور پر مَیں اس کا مالک ہوں۔ اس کے بعد یہ گھر مَیں نے اپنی بیگم کے نام کردیا، اب اس پر شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا مَیں اپنے بہن بھائیوں کو اس پلاٹ کی اس زمانے کے حساب سے قیمت دوں؟ اگر دوں تو کتنی ہو، یعنی اُس زمانے کے حساب سے ہو یا اِس دور کے حساب سے؟ میرے 6 بھائی اور 3 بہنیں ہیں، جن میں سے دو بھائی انتقال کرگئے ہیں۔ برائے مہربانی، شریعت کی رُو سے میری مشکل آسان کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ صورت میں وہ پلاٹ جو آپ کے والد صاحب کا تھا، اور سوسائٹی والوں نے آپ کے نام کردیا تھا، وہ درحقیقت آپ کے والد مرحوم کی وراثت کا حصہ ہے، لہٰذا اُس میں آپ کے سب بھائی، بہن حصہ دار ہیں، اور اگر والد صاحب کی وفات کے وقت آپ کے دنوں مرحوم بھائی اور والدہ بھی حیات تھیں، تو اُن کا بھی اس پلاٹ میں حصہ ہے، اور ان کا حصہ ان کی اولاد میں تقسیم ہوگا، لہٰذا صرف اس زمین کی موجودہ مالیت کے اعتبار سے اُس کی قیمت آپ کے بھائی، بہنوں اور والدہ میں تقسیم ہوگی، اس لیے کہ اُس پلاٹ پر آپ نے جو تعمیرات کی ہیں، وہ آپ کی ملکیت ہیں، لہٰذا پورے مکان کی قیمت نہیں لگائی جائے گی۔ نیز وہ پلاٹ جو آپ نے خود خریدا تھا، یعنی 193.33 گز کی زمین، وہ بھی صرف آپ کی ملکیت ہے، دوسرے ورثاء اُس کے حقدار نہیں ہیں۔

حوالہ جات

البحر الرائق (8/557):

"المراد من التركة ما تركه الميت."

المجلة (ص:210):

"مال المتوفى المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم."

تكملة رد المحتار (1/349):

"وشروطه ... وجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

27/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب