| 79952 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
لڑکی کو ڈاکخانہ سے طلاق کا نوٹس موصول ہوا،کچھ عرصے کے بعد دو نوٹس مزید موصول ہوئے جن پر لڑکی کے والد کے دستخط موجود تھے ۔تقریباً چھ سال بعد اب لڑکا رجوع کرنا چاہتا ہے،کچھ دوست حلالہ کے بارے میں مشورہ دے رہے ہیں۔
کیا طلاق ہوچکی ہے اور اگر ہوگئی ہےتو کیا حل ہے،حلالہ کی کیا صورت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسؤلہ صورت میں تین طلاق کا نوٹس وصول ہونےسے تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی،جس کے بعد شرعاًرجوع کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی اور حلالہ کے بغیر پہلے شوہر سے نکاح بھی نہیں ہوسکتا،حلالہ کی صورت یہ ہوگی کہ عورت تین طلاق کے بعد اپنی عدّت پوری کرکے کسی دوسرےشخص(پہلے شوہر کے علاوہ)سے نکاح کرے اور اس نکاح کے نتیجہ میں حقوقِ زوجیت بھی ادا کرے پھر اس کے بعد اگریہ شخص کسی وجہ سے عورت کو طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پہلا شوہر اس عورت کی عدّت گزر جانے کے بعد اس کی صریح مرضی سے دوبارہ نکاح کرلےلیکن یاد رہے کہ حلالہ کی شرط پر دوسری جگہ نکاح کروانا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور (1/ 676)
أخرج ابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم وَالْبَيْهَقِيّ عَن ابْن عَبَّاس فِي قَوْله {فَإِن طَلقهَا فَلَا تحل لَهُ من بعد} يَقُول: فَإِن طَلقهَا ثَلَاثًا فَلَا تحل لَهُ حَتَّى تنْكح غَيره۔
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 247)
حديث رجاله ثقات وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : " أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ " حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
14/شعبان/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


