03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک مسجد میں دو جماعتوں کا حکم
79957نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

بیک وقت مسجد میں دو جماعتیں ہورہی ہوں تو کن کی نماز درست ہے اور کن کی درست نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک ہی مسجد میں بیک وقت یا آگے پیچھے ایک سے زائد جماعتیں کروانا شرعاًمکروہ ہے،البتہ اس طرح کرنے سے ہر ایک کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں دونوں جماعتوں کی نماز درست ہے،لیکن دوسری جماعت چونکہ باقاعدہ مسجد کمیٹی کی طرف سے طے شدہ ہے اورپہلی جماعت کمیٹی کے مقرر کردہ امام کے علاوہ ہے اس لئے پہلی جماعت سے احتراز کیا جائے۔

حوالہ جات

اعلاء السنن: 4/280

عن عبد الرحمن بن المجبر قال: دخلت مع سالم بن عبد اللہ مسجد ا لجمعة وقد فرغوا من الصلاة، فقالوا: ألا تجمع الصلاة؟ فقال سالم: لاتجمع صلاة واحدة في مسجد واحد مرّتین ۔

طبرانی المعجم الأوسط:4601

عن أبي بکرة أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أقبل من نواحي المدینة یرید الصلاة فوجد الناس قد صلّوا فمال إلی منزلہ فجمع أہلہ فصلّی بہم۔

محمد مصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

15/شعبان/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب