| 79998 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میں ایک پاکستانی کینیڈین ہوں۔ وہاں میں نے اپنی ضرورت کے تحت کریڈٹ کارڈ رکھا ہوا ہے لیکن کوشش ہوتی ہے کہ سود نہ دینا پڑے اسی لیے اس کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اور اس کی لمٹ بچی ہوئی ہوتی ہے۔ ایک عزیز کو یہ بات معلوم تھی تو انہوں نے اپنی ایک شدید ضرورت کے تحت مجھ سے درخواست کی کہ میں انہوں اپنے کارڈ سے پیسے دے دوں جو بھی جتنے بھی واپس کرنے پڑیں گے وہ خود کریں گے۔ میں نے ان کی ضرورت دیکھتے ہوئے ان کو پیسے نکال کر دے دیے اور ساتھ ہی ہر ماہ خود اپنی طرف سے پیسے واپس جمع کرواتا رہا کہ سود بہت زیادہ نہ بڑھ جائے۔ اب پاکستانی حکومت نے حج اسکیم کا اعلان کیا تو میری خواہش یہ ہوئی کہ والدین کو حج پر بھیج دیا جائے لیکن وہ صاحب ابھی رقم واپس کرنے کی حالت میں نہیں ہیں تو کیا وہ رقم جو میں نے ان کی طرف سے بینک میں جمع کروائی تھی خود اپنے استعمال کے لیے نکال سکتا ہوں یا اس پر بھی سود کے احکام لاگو ہونگے۔ میں نے محض اس غرض سے رقم واپس جمع کروائی تھی کہ اگر اپنے پاس کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوں گاتو اس سے بینک کے سوا کسی کا فائدہ نہیں ہوگا اور اگر ان کی طرف سے یہ رقم واپس جمع کروا دوں گا تو ان پر سود کا بوجھ کم پڑے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس طرح خود سود دینا ممنوع ہے اسی طرح کسی اور کے سودی لین دین کا ذریعہ بننا بھی درست نہیں۔ کنوینشنل بینک میں کریڈٹ کارڈ چونکہ سود کی بنیادوں پر کام کرتا ہے لہذا صرف شدید مجبوری کی صورت میں ہی دو احتیاطوں کے ساتھ اس کے جواز کی گنجائش دی جاسکتی ہے:
۱۔ ضرورت انتہائی شدید ہو اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال کےبغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہ ہو۔
۲۔ اپنی لمٹ کے اندر خریداری کرے،سودی قرض کی نوبت نہ آنے دے، اسی طرح اس سےلی ہوئی رقم کی ادائیگی مقررہ تاریخ پر کرےاس کو”overdue”نہ ہونے دے۔
مذکورہ سوال میں اگرچہ وہ آپ کی ذاتی رقم ہے جو آپ نے واپس جمع کروائی ہے لیکن جب ایک دفعہ آپ نے واپس جمع کروا دی تو وہ بینک کے ادھار کی ادائیگی سمجھی جائے گی اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ دوبارہ بینک سے رقم نکلوانا ایک نیا سودی معاملہ سمجھا جائے گا اور حج جیسی مقدس عبادت کی ادائیگی سودی معاملہ سے حاصل کی جانے والی رقم سے کرنا کسی صورت بھی مناسب نہیں بلکہ اس نیک مقصد کے لیے کسی جائز متبادل ذریعہ سے رقم کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
السنن الصغير للبيهقي (2/ 273)
وروينا عن فضالة بن عبيد، أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا۔
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 571)
حد ثنا أبو بردة , قال: قدمت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام , فقال: " انطلق معي المنزل فأسقيك في قدح شرب فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وتصلي في مسجد صلى فيه " , فانطلقت معه فسقاني سويقا , وأطعمني تمرا وصليت في مسجده , فقال لي: " إنك في أرض الربا فيها فاش وإن من أبواب الربا أن أحدكم يقرض القرض إلى أجل فإذا بلغ أتاه به وبسلة فيها هدية فاتق تلك السلة وما فيها " رواه البخاري في الصحيح ۔
مصنف ابن أبي شيبة (4/ 327)
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال: «كل قرض جر منفعة، فهو ربا»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395)
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض۔
فقہ البیوع(1/463)
انماجری التعامل علی ان الانسان یتعاقد معھا من غیر نکیر بشرط ان یکون فی عزمہ ان یودی واجباتہ فی حینھا۔وانما اجیز ذلک لحاجۃ عامۃ۔فان لم یتیسر الحصول علی بطاقۃ الحسم الفوری،ولاالتعاقد مع مصدر البطاقۃ بان یسحب مبلغ الفاتورۃ من حساب الحامل ،واشتدت الحاجۃ الی مثل ھذہ البطاقۃ، فاالمرجو ان حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذاالعقد ان شاءاللہ تعالی اخذجمیع الاحتیاطات اللازمۃ لان لایلجا الی دفع الفائدۃ الربویۃ۔
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۵شعبان ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


