03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نومولود کی پرورش کا حق
79990طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

مسئلہ یہ درپیش ہے کہ میرے گھر بچے کی پیدائش ہوئی ہے ابھی میں اپنی بیوی اور بچے کی بہترین نگہداشت کے لئے ان کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کے آیا تاکہ میرے گھر پر دیکھ بھال بہتر ہو سکے لیکن میرے سسرال یعنی میری بیوی کے میکے والے مسلسل اس چیز پر بضد ہیں میری وائف کو اس کی والدہ کے گھر بھیجا جائے لیکن میں اپنے بچے کی وجہ سے فکرمند ہوں اور میں اس کو میکے بھیجنا نہیں چاہتا، کیونکہ میرے گھر تین سال کے بعد اللہ پاک نے اولاد دی ہے، میں نہیں چاہتا کہ اس کی نشوونما میں کوئی کمی آئے اور میں اپنی بیوی کو میکے نہیں بھیج رہا اس پر بیوی کا رویہ بہت زیادہ خراب ہے، میری والدہ کے ساتھ بھی اور دیگر گھر والوں کے ساتھ بھی، وہ مجھ سے یہ کہہ رہی ہے کہ میں خلاف شریعت کام کر رہا ہوں کہ اس کو اس کی ماں باپ کے گھر نہیں بھیج رہا۔

         سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ عمل غلط ہے اور شریعت کے خلاف ہے؟ کیا شوہر کا حکم بیوی پر ماننا لازم نہیں؟ شادی کے بعد بیوی کی ماں کی بات کی اہمیت شوہر کے حکم سے زیادہ ہیں؟ اس پر میری بیوی میرے خلاف فتوی لے رہی ہیں کہ یہ عمل غلط ہے اور میں گناہ کر رہا ہوں؟ براہ کرم اس کی وضاحت فرما دیجئے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ میں اولاد کی تربیت پر بہت زور دیا گیا ہے، لہذا اس بات کی فکر کرنا کہ بچپن سے ہی اولاد کی اچھی پرورش ہو ایک اچھی بات ہے لیکن اس غرض سے بیوی کو میکے جانے سے روکنا مناسب نہیں، ہاں اگر میکے میں کوئی ایسی ظاہر وجہ موجود ہو جو بچہ کی نشونما میں نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے توباہمی رضامندی سے کوئی ایسی ترتیب بنا لینی چاہیے جس سے بیوی اپنے گھر والوں سے بھی مل سکے اور بچے کی پرورش میں بھی کوئی ضرر نہ ہو۔

یہاں پر یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اگر کسی وجہ سے ماں بچہ کی پرورش سے عاجز ہو تو یہ حق ماں کے بعد نانی کو ملتا ہے لہذا بغیر کسی وجہ کے بچہ کو نانی سے دور کرنا مناسب نہیں اور یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اگر ماں کے گھر نہ جانے کی وجہ سے بیوی کا رویہ خراب ہو رہا ہے تو یہ بات بچے کی تربیت میں زیادہ نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ان وضاحتوں کے بعد شرعی مسئلہ یہ ہے کہ  آپ چاہیں تو بیوی کو اس کے میکے جانے سے روک سکتے ہیں اور وہ پابند ہوگی کہ آپ کی فرمانبرداری کرے لیکن ساتھ ہی آپ کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ہر ہفتہ میں ایک دفعہ بیوی کی اس کے والدین سے ملاقات کی کوئی صورت بنائیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 145)

(و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك.

{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا} [النساء: 34، 35]

السنن الكبرى للنسائي (8/ 253)

9102 - أخبرنا محمد بن معاوية بن مالج قال: حدثنا خلف وهو ابن خليفة، عن حفص ابن أخي أنس بن مالك، عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يصلح لبشر أن يسجد لبشر، ولو صلح لبشر أن يسجد لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها»

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (4/ 306)

7638 - وعن ابن عباس «أن امرأة من خثعم أتت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقالت: يا رسول الله أخبرني ما حق الزوج على الزوجة، فإني امرأة أيم، فإن استطعت وإلا جلست أيما؟ قال: " فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر بعير أن لا تمنعه نفسها ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعا إلا بإذنه، فإن فعلت جاعت وعطشت، ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه، فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع ". قالت: لا جرم لا أتزوج أبدا».

الفتاوى الهندية (1/ 556)

تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز وإن أسكنها في منزل ليس معها أحد فشكت إلى القاضي أن الزوج يضر بها، ويؤذيها وسألت القاضي أن يأمره أن يسكنها بين قوم صالحين يعرفون إحسانه وإساءته، فإن علم القاضي أن الأمر كما قالت زجره عن ذلك، ومنعه عن التعدي، وإن لم يعلم ينظر إن كان جيران هذه الدار قوما صالحين أقرها هناك، ولكن يسأل الجيران عن صنعه، فإن ذكروا مثل الذي ذكرت زجره عن ذلك ومنعه عن التعدي في حقها، وإن ذكروا أنه لا يؤذيها فالقاضي يتركها ثمة، وإن لم يكن في جواره من يوثق به، أو كانوا يميلون إلى الزوج فالقاضي يأمر الزوج أن يسكنها في قوم صالحين، ويسأل عن ذلك، ويبني الأمر على خبرهم كذا في المحيط.

المبسوط للسرخسي (5/ 186)

(قال:) وإذا تغيبت المرأة عن زوجها، أو أبت أن تتحول معه إلى منزله، أو إلى حيث يريد من البلدان وقد أوفاها مهرها فلا نفقة لها؛ لأنها ناشزة ولا نفقة للناشزة فإن الله تعالى أمر في حق الناشزة بمنع حظها في الصحبة بقوله تعالى {واهجروهن في المضاجع} [النساء: 34] فذلك دليل على أنه تمنع كفايتها في النفقة بطريق الأولى؛ لأن الحظ في الصحبة لهما وفي النفقة لها خاصة، ولأنها إنما تستوجب النفقة بتسليمها نفسها إلى الزوج وتفريغها نفسها لمصالحه، فإذا امتنعت من ذلك صارت ظالمة وقد فوتت ما كان يوجب النفقة لها باعتباره فلا نفقة لها

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 145)

(و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك.

 ولی الحسنین

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۶ شعبان ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب