03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاڑی کی قسطیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے سودا خراب ہونے کا حکم
79999خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

ارسلان نے عابدسے ایک گاڑی قسطوں پر خریدی، قسطوں کی باقاعدہ ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے چھ سات ماہ بعد سودا خراب ہوگیا اور عابد نے گاڑی واپس لے لی ۔چھ ماہ کے دوران ارسلان نے گاڑی کی مرمت پر کچھ رقم لگائی تھی اور تقریباًٍٍ دو لاکھ روپے نقد جمع کروائے تھے۔اب ارسلان اپنی جمع کروائی ہوئی مکمل رقم واپس چاہتا ہے جبکہ عابد ایک لاکھ روپے بطور کرایہ کے روکنا چاہتا ہے، عابد کا کہنا ہے کہ اس نے یہ گاڑی کسی اور سے لے کر ارسلان کو دی تھی اور اس اصل مالک نے ایک لاکھ ہی واپس کیے ہیں، جبکہ ارسلان کو یہی لگا تھا کہ یہ گاڑی عابد ہی کی ملکیت ہے جوکہ عابد فروخت کر رہا ہے۔ اب یہ ایک لاکھ کا نقصان ارسلان یا عابد میں سےکس کا ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت کا اصول ہے کہ کسی بھی چیز سے نفع اٹھانے کا حق اس ہی شخص کو ہے جو اس کے نقصان کو برداشت کرتا ہے۔مذکورہ صورت میں ارسلان گاڑی خریدتے ہی اس کے نفع نقصان کا مالک بن گیا تھا اور وقت پر طے شدہ شرائط کے مطابق ادائیگی کرنے کا پابند ہو گیا تھا۔ اب وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اگر عابد اور ارسلان باہمی رضامندی سے یہ معاملہ فسخ کرنا چاہتے ہیں تو عابد اس بات کا پابند ہوگا کہ مکمل جمع شدہ رقم واپس کرے جبکہ ارسلان پابند ہوگا کہ گاڑی اس ہی حالت میں واپس کرے جیسی وہ لیتے وقت تھی، اس صورت میں عابد کچھ بھی رقم روکنے کا حقدار نہیں اور اگر کسی سابقہ معاملہ کو ختم کرنے کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہ نقصان عابد کا ہی ہوگا جوکہ وہ اصل مالک سے واپس لینے کا حقدار ہوگا۔ ہاں ارسلان اگر چاہے تو اپنی رضامندی سے کچھ رقم عابد کو دے سکتا ہے۔عابد کا اس طرح گاڑی فروخت کرنا درست نہیں ہے کہ وہ خود گاڑی کا مالک نہ ہو، بلکہ اسے چاہیے کہ یا تو اصل مالک کے بروکر کے طور پر کام کرے یا پھر گاڑی خرید کر خود قبضہ کرنے کے بعد آگے فروخت کرے اور  اس صورت میں پیسے نہ ملنے کی وجہ سے مستقبل میں ہونے والے نقصانات عابد کے ہونگے جبکہ پہلی صورت میں اصل مالک کے ہونگے اور عابد اپنے کمیشن کا حقدار ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 125)

(قوله: وتصح بمثل الثمن الأول) حتى لو كان الثمن عشرة دنانير، فدفع إليه دراهم ثم تقايلا وقد رخصت الدنانير رجع بالدنانير لا بما دفع، وكذا لو رد بعيب وكذا في الأجرة لو فسخت ولو عقد بدراهم فكسدت ثم تقايلا رد الكاسد كذا في الفتح نهر. (قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا، قال في الفتح: والأصل في لزوم الثمن، أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين، وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول، واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

فتح القدیر487/6))

قال العلامۃ علی بن أبی بکر الفرغانی رحمہ اللہ تعالٰی: (فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول)۔

وقال تحتہ العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ تعالٰی: (والأصل): أي الأصل في لزوم الثمن الأولُ، حتى يبطل الأقل والأكثر (أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين) وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول، كأن لم يكن، فيثبت الحال الأول، وثبوت الحال الأول، هو برجوع عين الثمن الأول إلى مالكه، كأن لم يدخل في الوجود غيره، وهو يستلزم تعيين الأول، ونفي غيره من الزيادة والنقص وخلاف الجنس والأجل. (

بدائع الصنائع (5/ 147)

روى أن حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله فقال لا تبع ما ليس عندك ولأن بيع ما ليس عنده بطريق الأصالة عن نفسه تمليك ما لا يملكه بطريق الأصالة وأنه محال وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه

 فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط وإن كان فضوليا فليس بشرط للانعقاد عندنا بل هو من شرائط النفاذ فإن بيع الفضولي عندنا منعقد موقوف على إجازة المالك فإن أجاز نفذ وإن رد بطل۔

ولی الحسنین

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

  ۲۶ شعبان ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب