03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نشہ میں طلاق نامہ پر دستخط کرنےکا حکم
79586طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میرے شوہر نے شراب کے شدید نشہ میں طلاق نامہ پر دستخط کر دیا ہے۔  کیا اس سے طلاق ہو گئی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شراب کے نشہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اور منسلکہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہیں لہذا مذکورہ صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر طلاق مغلظ ہوچکی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب آپ دونوں کا حلالہ شرعیہ کے بغیر ساتھ رہنا کسی صورت بھی جائز نہیں۔

حوالہ جات

(الدر المختار:3/ 235)

"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق۔"

(الفتاوى الهندية :1/ 353)

"وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط ۔"

 ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

5 رمضان 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب