| 80091 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا اپنی بیوی سے 1985ء میں نکاح ہوا، میرے الحمد اللہ تین بچے ہیں اور ماشاء اللہ سب بچے اب شادی شدہ ہیں، میری بیوی نہایت بد زبان، نافرمان اور ہر وقت گھر میں ہنگامہ کرتی رہتی تھی۔ اب اس کو کوئی دوسرا شخص پسند آ گیا، اس نے میری عدم موجودگی میں میری بیوی کو مجھ سے علیحدگی کا مشورہ دیا اور ہر طرح سے اس کا تعاون کیا، میری عدم موجودگی میں میرے گھر آنا، میری بیوی سے بات چیت کرنا اور ساتھ باہر جانا معمول بن گیا، اب ان دونوں نے مل کر عدالت سے خلع کی ڈگری لی، عدالت کی طرف سے مجھے علیحدگی کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، میرے گھر کا ایڈریس بھی غلط لکھا گیا، تاکہ کوئی عدالتی اہلکار نہ پہنچ سکے، ازراہ کرم مجھے شریعت کی روشنی میں بتایے کہ عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ عدالت کا فیصلہ ساتھ منسلک ہے۔
وضاحت:
سائل کے بڑے بیٹے فیضان سے فون پر بات ہوئی، اس نے بتایا کہ میرے والد نے میری والدہ کو نہیں مارا پیٹا نہیں اور نہ ہی گھر سے نکالا ہے، گھر میں لڑائی کی ابتداء والدہ کی طرف سے ہوتی تھی، برتن بھی ٹوٹتے تھے مگر ہم بیچ میں صلح صفائی کروا دیتے تھے، میری والدہ والد صاحب پر دوسری شادی کا الزام لگاتی تھی، جبکہ حقیقت میں والد نے دوسری شادی نہیں کی تھی، والدہ نے غلط بیانی کر کے عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے۔نیز سائل کا بھی یہی کہنا ہے کہ مارپیٹ کرنے اور گھر سے نکالنے والی بات غلط ہے نان ونفقہ وغیرہ بھی مکمل ادا کرتا تھا، عورت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منسلکہ عدالتی فیصلہ میں مذکور ہے کہ شوہر عورت کو مارتا پیٹتا تھا اور اس کو مارپیٹ کر گھر سے نکالا ہے اور شادی کے بعد ایک پیسہ بھی عورت کو نہیں دیا، جبکہ سوال میں ذکر کی گئی وضاحت میں سائل اور اس کے بیٹے کا بیان یہ ہے کہ مارپیٹ کر گھر سے نکالنے والی بات درست نہیں ہے، اسی طرح پیسے نہ دینے والی بات بھی غلط ہے۔شاید اسی وجہ سے فیصلے پر گواہوں کے دستخط موجود نہیں ہیں، کیونکہ اگر عورت اپنے دعوی میں سچی ہوتی تو اپنے دعوی کو گواہوں سے ثابت کرتی۔ لہذا اگر واقعتاً سائل نے اپنی بیوی کو مارپیٹ کر کے گھر سے نہیں نکالا اور نان ونفقہ بھی مکمل ادا کرتے رہے ہیں، تو اس صورت میں یک طرفہ طور پر لیا گیا منسلکہ عدالتی فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ عدالتی فیصلہ کے معتبر ہونے کے لیے فسخِ نکاح کی کوئی شرعی وجہ پایا جانا ضروری ہے، جبکہ یہاں کوئی شرعی وجہ موجود نہیں، نیز اس فیصلے کو خلع کے طور پر بھی معتبر نہیں قرار دیا جا سکتا، کیونکہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی ہونا ضروری ہے، جبکہ یہاں شوہر کی طرف سے خلع پر رضامندی موجود نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده۔
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.
والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/شوال المکرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


