| 80109 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
ساجد کے پاس ایک کتاب ہے جس کا نام تین طلاق ہے ،ساجد نے طلاق کی نیت سے عابدہ کو کتاب پکڑائی، منہ سے کوئی بات نہ کی، کتاب پکڑاتے وقت ساجد کی نیت تھی کہ کتاب پر جو تین طلاق لکھا ہے اس سے عابدہ کو تین طلاق اور اس نے طلاق کی نیت سے عابدہ کو کتاب پکڑا دی، عابدہ کو لگا چونکہ ساجد پکا حنفی ہے ،اس نے اہل حدیث دوست سے اس موضوع پر بحث کرنی ہوگی ،عابدہ نے کتاب الماری میں رکھ دی ،ساجد نے زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ کیا اور کام کاج میں مصروف ہوگیا۔کیا ایسی صورت حال میں طلاق ہوئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ فضول سؤال ہے،اگرایسا واقعہ ہوا ہےتو فضول حرکت ہے،اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۱شوال۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


