| 80114 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص مرحوم اکرام بن حسین کا انتقال1994میں ہوا،اس کا ترکہ ایک پلاٹ تھا جس کی مالیت آج کی قیمت کے اعتبارسے 60 لاکھ بنتی ہیں جوکہ بیچ دیا گیاہے اور60لاکھ نقدی کی شکل میں موجود ہیں، مرحوم اکرام بن حسین کےموت کے وقت درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
چار بیٹے:اسلام الدین،غلام نبی،گل اکبر،اورمصطفی،چار بیٹیاں:شمیم، نسیم ،بلقیس اورتسلیم ۔
اس کے بعدان کی بیٹی شمیم فوت ہوئی اورموت کے وقت اس کے درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
ایک بیٹی: بنش ،چار بھائی: اسلام الدین،غلام نبی،گل اکبراورمصطفی اورتین بہنیں: نسیم ،بلقیس اورتسلیم، برائےکرم یہ وضاحت فرمائیں کہ ان سب میں میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ دولوگ یکے بعددیگرےفوت ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے وارث ہیں، لہذاموجودہ صورت میں مرحومین کے مال میں سے جن جن ورثاء کوجو جوحصہ ملے گا،آسانی کے لیے ذیل میں اس کاجدول ملاحظہ ہو۔
مورث اعلی اکرام بن حسین/ کل مال :100/6000000روپے
|
دیگرتفصیل |
فیصدی حصہ |
60لاکھ میں حصہ |
مورث اعلی سے رشتہ |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
17.42424242% |
1045455 |
بیٹا |
اسلام الدین |
1 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
17.42424242% |
1045455 |
بیٹا |
غلام نبی |
2 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
17.42424242% |
1045455 |
بیٹا |
گل اکبر |
3 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
17.42424242% |
1045455 |
بیٹا |
مصطفی |
4 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
8.712121212% |
522727.3 |
بیٹی |
نسیم |
5 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
8.712121212% |
522727.3 |
بیٹی |
بلقیس |
6 |
|
والد اکرام اوربہن شمیم سے |
8.712121212% |
522727.3 |
بیٹی |
تسلیم |
|
|
والدہ شمیم سے |
4.166666665% |
250000 |
نواسی |
بنش |
7 |
|
|
100٪ |
6000000 |
|
ٹوٹل: |
واضح رہے کہ یکے بعد دیگرے ورثہ کے فوت ہونے کی صورت میں دوسری میت سے آخر تک کے اموات کوپہلی میت سے بھی ملتاہے اورعام طورپر فوت ہونے کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں بھی کچھ نہ کچھ مال ہوتاہے تو جب ان کا مال تقسیم ہوتوپہلی میت سے ملنے والے مال کے ساتھ اس کے دیگرذاتی اموال کو بھی ملایاجاتاہے جو بوقت موت ان کی ملکیت میں ہوتاہے لہذا مسئولہ صورت میں دوسری میت شمیم کی میراث تقسیم کرتے وقت دونوں مالوں(پہلی میت اکرام سے ملنے والااوراپنا) کو جمع کرلیا جائےگا،اورپھر کل مال جتنا بھی ہوجائے اس کوورثہ میں تقسیم کیاجائے گا، تقسیم کا طریقہ کار وہی ہوگاجو اوپر مذکورہوا ۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته
حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/10/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


