03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی،پانچ بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیم میراث
80140میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرے پیارے والد محترم جناب شفیع اللہ خان ولدنعمت اللہ خان رحمہ اللہ کا انتقال،4 رمضان المبارک 1444ھ کو ہوااور  درج ذیل میراث چھوڑکر گئے ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے۔

1۔پانچ بیٹے ،چاربیٹیاں،دو بیوہ چھوڑ گئے ہیں ان کی تفصیل علیحدہ دی جارہی ہے ۔

الف: پہلی بیوی جن کا نام ولا جان ہے،  ان سے دوبیٹے طاہر منصور  اور طارق منصور  ہیں،اور تین بیٹیاں محترمہ ناہید خان ،محترمہ فہمیدہ خان،محترمہ ثریا خان ہیں۔

ب: آپ کی پہلی زوجہ محترمہ ولاجان صاحبہ کا انتقال ۱۹۷۸ء میں ہواہے ۔ اور بیٹی محترمہ فہمیدہ خان ۱۹۹۲ء میں انتقال فرما گئی ہیں۔

ج: والد محترم نے دوسری شادی کر لی تھی دوسری بیوی سے ان کی اولاد کی تفصیل یہ ہے محترم سبحان الدین صاحب، محمدآصف صاحب، عبدالشکورصاحب اور بیٹی سونی صاحبہ۔

 اس طرح پہلی بیوی سے 2بیٹے 3بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی فہمیدہ خان والد صاحب کے حیات میں انتقال فرماگئی ہیں ،دوسری بیوی سے تین بیٹے اور ایک بیٹی،اس طرح موجودہ اولاد میں جملہ جوحیات ہیں، پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ۔

2۔والد صاحب رحمہ اللہ کی جس گھر میں رہائش تھی اس کی جملہ پیمائش اوسط ۴۳۵ گز بنتی ہے، اس پلاٹ میں سائز ۳۴۰،اسکوائر فیٹ کا ایک کمرہ ہے جس کی جگہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں بھائی طاہر منصور صاحب کے نام کہہ دیا تھا جس پر بھائی طاہر منصور صاحب نے اپنی جیب سے اخراجات کرکے ایک عدد کمرہ تعمیر کیا اور اس سے متصل ایک خالی جگہ جو کہ تقریبا77گز بنتی ہے طارق منصور کے نام بول دیا تھاکہ یہ جگہ طارق منصور کی ہے ،لیکن اس پر طارق منصور نے کوئی تعمیر نہیں کی ہے ایک جگہ ۲۲۴۰،اسکوائر فیٹ گز جگہ ہے ( ۴۳۵ گز جگہ کاہی حصہ ہے )جس پر بھائی سبحان الدین نے اپنی جیب سے اس پر تعمیرات کی ہیں جس کے بارے میں والد صاحب نے بھی کسی قسم کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ یہ جگہ بھائی سبحان الدین کی ہے۔ایک چھوٹی سے دکان ہے جس کے بارے میں والد صاحب نے بار باراس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہ جگہ میری بیٹی ثریا خان کی ہے، ایک اورپلاٹ ہے جس کی پیمائش اوسط ۳۰۰۰ گز ہیں، اس کا والد صاحب نے بار بارتذکرہ کیا ہے کہ یہ جگہ محمد آصف کی ہے۔

1۔معلوم کرنا ہے اس طرح کے والد صاحب کے بول چال سے ان کے زندگی میں تقسیم وارثت کا حکم صادر ہوگا یا ہبہ کاحکم؟

2۔بھائی سبحان الدین صاحب نے جس جگہ ( ۲۲۴۰ گز والی جگہ) پر تعمیرات کی ہیں جو ایک باقاعدہ مکان کی شکل میں ہیں اور اس پر ایک خطیر رقم خرچ کی ہے، اس پر شریعت کا کیا حکم صادر ہو گا کہ کیا اس کو بھی وارثت کا حصہ سمجھا جائیگا یا صرف پلاٹ کی شکل کی تقسیم ہوگی یا والد کی خاموشی کوان کی زندگی میں بھائی سجان الدین صاحب کے ملکیت سمجھی جائیگی؟ اور جو طاہر منصور کا کمرہ اور طارق منصور کی جگہ ہے اس بارے میں کیا حکم ہے؟ اورجن بھائیوں بہنوں کا والد صاحب نے تذکرہ نہیں کیا ، اس میں کیا وارثت کا حصہ دار سمجھا جائیگا ؟

3۔جوجگہ ثریاخان اور بھائی محمدآصف کو والد صاحب اپنی حیات میں دی تھی اس کا کیا حکم ہے؟

4۔ان تمام ورثاء میں ایک بیوہ جو وفات پا گئی ہیں ان کا کچھ حصہ؟ یا جو بیٹی وفات پا گئی ان کا بھی کچھ حصہ ہو گا ؟ براہ مہربانی ان تمام کےجوابات شرعی اعتبار سے صادر فرمادیں ایک آخری بات والد صاحب کی کچھ نماز میں رہ گئی تھیں اور قضاء روزوں کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ اپنی زندگی میں اولاد کوجائیداد دینا ہبہ ہے،اور ہبہ میں قبضہ ضروری ہے،اس لیے  اگر والدنے قبضہ دیا ہے اس طور پر  کہ اس جائیداد سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکر اولادکے حوالے کردیا ہو تویہ جائیداداولادکی ملکیت میں آگئی ہے۔اگر قبضہ نہ دیا ہو بلکہ فقط نام کردی ہو یا صرف زبانی بات کی ہوتو پھر یہ جائیداد اولاد کی ملکیت میں نہیں آئی ہے،لہذا وہ میراث کا حصہ بن کر ورثہ کے درمیان اپنے حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

2۔ والدکی زمین پر بیٹے نے والد کی اجازت  سے جوتعمیر کی ہے وہ اگر اپنے لئے تعمیر  کی تھی تو زمین والد کی ملک

ہوگی اور مکان کا مالک تعمیر کرنے  والا بیٹا ہوگا ۔لیکن اس کو صرف  ملبہ کی  قیمت ملے گی  اور زمین والد ہی کی

ملک  ہوگی ، والد کی وفات کے بعد  تمام ورثاء  اس زمین میں شریک ہونگے ۔

چونکہ والد کی رہائش اسی مکان میں تھی، اس لیے اس کے ایک حصے میں  طاہر منصور صاحب اور سبحان الدین نے جو تعمیرات کی ہیں،تعمیر کے ملبے کی قیمت ان کوملے گی،زمین ورثہ میں تقسیم ہوگی،اسی  طرح طارق منصور صاحب کے نام جو زمین زبانی طور پر کی  ہے وہ بھی ورثہ میں تقسیم ہوگی۔اگر بیٹی ثریاخان  کو دکان اور محمد آصف کو پلاٹ اس طور پر حوالے کیے ہیں جیساکہ اوپر نمبر 1میں گزرچکاہے تو وہ ان کی ملکیت میں ہیں،ورنہ میراث کا حصہ بن کر تمام ورثہ میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے۔

3۔جس بیوی اور بیٹی کا انتقال جناب شفیع اللہ خان کی حیات ہی میں ہوا ،ان کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

4۔جناب شفیع اللہ خان کی میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ انہوں نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،ان کے ورثہ میں ایک بیوی ،5 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ،پہلی بیوی محترمہ ولا جان اور بیٹی محترمہ فہمیدہ خان کا میراث میں حصہ نہیں ہوگا۔ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ بیوی: 12.5 فیصد حصہ  ملے گا۔

2۔ پانچ بیٹوں کا مجموعی حصہ: 67. 31(یعنی ہر بیٹے کو13.46فیصد حصہ ملے گا۔)

3۔تین بیٹیوں کا مجموعی حصہ: 20.19(یعنی ہر بیٹی کو 6.73فیصد حصہ ملے گا۔)

اگر والد صاحب  نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو، تو ورثاء پر لازم ہوگا کہ ان کے ایک تہائی ترکہ میں سے نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کریں، اور اگر انہوں نے وصیت نہیں کی ، تو ورثاء پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے، البتہ اگر بالغ  ورثاء اپنی خوشی سے فدیہ ادا کرنا چاہیں، تو ان شاء اللہ امید ہے کہ  فدیہ ادا ہوجائے گا، اور یہ میت پر بڑا احسان ہوگا

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

24/شوال1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب