03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
واقف کے ورثہ کے پاس متولی کی تبدیلی کااختیار
80154وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کےبارےمیں:

ایک شخص قانونی لحاظ سےایک ST پلاٹ کا مالک ہے۔ اس پلاٹ پر مسجدبنانےکی نیت سےکچھ رقم لگاکر تعمیرات بھی کرلیتاہے،دوسری طرف اس ST پلاٹ جس پر مسجد کی تعمیرکی نیت کی گئی ہے اور مسجدتعمیرہورہاہے۔ ایک اور فریق اس پلاٹ سمیت تقریبا16 ایکڑ پر دعویدار بھی ہے اور وہاں تعمیرات کرکےرہائش پزیربھی ہے ۔ایک شخص جو ایس ٹی نام پلاٹ کا دعویدار تھا جس پر مسجدتعمیر ہورہاہے، وہ شخص بلا کسی اکراہ اور جبر کےہوش وحواس اور اپنی مرضی سےاقراری ہوکراس مسجد کی جملہ انتظامی امور اور تعمیری امور مع تولیت چشم دید گواہوں کےسامنےکسی شخص یاادارےکو دےدیتاہے ۔ بعد میں وہی شخص انتقال کرجاتاہے ، انتقال کےبعدمتوفی کا بیٹا یاکوئی رشتہ دار وارث دوبارہ تولیت کا دعوی کرسکتاہے۔کیا ایسی تولیت تمام جملہ امور متوفی کے زندگی میں وہ خود یا اس کےبعد اسکاکوئی وارث دوبارہ تولیت کا دعوی کرسکتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واقف خود متولی کو تبدیل کرسکتاہے،جبکہ واقف کے ورثہ کے بارے میں یہ حکم ہے کہ  واقف کا مقرر کردہ متولی اگر نا اہل نہ ہو یعنی اپنی ذمہ داری درست طریقے سے سرانجام دے رہا ہو،اس سے کوئی خیانت  بھی ظاہر  نہ ہوئی ہو اور  وہ اپنے کام سے عاجز  بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کو معزول کرکے کسی اور کو متولی بناننا درست نہیں۔یہ اس صورت میں ہے کہ زمین کا یہ حصہ جس پر مسجد تعمیر ہورہی ہے ،فریقین کے درمیان متنازعہ نہ ہو،اور یہ وقف ہوکر مسجد شرعی بن چکی ہو۔تاہم اوپر کی تحریر سے معلوم ہوتاہے کہ یہ زمین دوفریق کے درمیان متنازعہ تھی، ایسی جگہ مسجد نہیں بنانی چاہیے؛ تاوقتیکہ اس زمین سے متعلق کوئی بات واضح نہ ہو جائے، پھر جب کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ ہو جائے تو اس فریق کا اس زمین کو مسجد بنانا درست ہو گا،ایسی زمین  جوکسی کی مملوکہ ہو اس  پربلااجازت مسجد کی  تعمیر کرنے سے وہ

مسجدِ شرعی نہیں بنے گی اور اُس میں نماز پڑھنا بھی  مکروہ ہے۔

حوالہ جات

وفی الدر(4/382):

"(جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان وإلا فللحاكم فتاوى ابن نجيم وقارئ الهداية وسيجيء،(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف۔۔۔(غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح .(وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي ،فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه.

وفي الرد: مطلب في عزل الناظر (قوله: فلو مأمونا لم تصح تولية غيره) قال في شرح الملتقى إلى الأشباه لا يجوز للقاضي عزل الناظر المشروط له النظر بلا خيانة، ولو عزله لا يصير الثاني متوليا، ويصح عزل الناظر بلا خيانة لو منصوب القاضي أي لا الواقف وليس للقاضي الثاني أن يعيده وإن عزله الأول بلا سبب لحمل أمره على السداد إلا أن تثبت أهليته اه.وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي."۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/شوال1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب