| 80195 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مکان 4/1 –D -1 ناظم آباد نمبر 1 کراچی میں ہے جس کا رقبہ 216 مربع گز ہے اور گراؤنڈ فلور کے علاوہ اس پر دو فلو بنے ہوئے ہیں۔ یہ مکان عبد الرحمن سیٹھ جی کی ملکیت تھا، ان کا انتقال 1988ء میں ہوچکا ہے، ان کی زوجہ کا انتقال 1999ء میں ہوچکا ہے۔ ان دونوں کے انتقال کے وقت ان کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔ مکان کی مالیت ساڑھے پانچ کروڑ (55,000,000) روپے ہے۔ ورثا کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
(1)۔۔۔ عبد السلام، بڑا بیٹا، ان کا انتقال 2004ء میں ہوچکا ہے۔ ان کے ورثا ایک اہلیہ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں جو کہ گراؤنڈ فلور پر رہائش پذیر ہیں۔ ان کے تمام بچے شادی شدہ ہیں۔ انتقال کے وقت اس کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔
(2)۔۔۔ عبد الفاروق، دوسرا بیٹا، حیات ہے اور اپنی اہلیہ، چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے ساتھ فرسٹ فلور پر رہائش پذیر ہے۔ تمام بچے شادی شدہ ہیں۔
(3)۔۔۔ محمد اقبال، تیسرا بیٹا، ان کا انتقال 2021ء میں ہوچکا ہے۔ ان کے ورثا میں ایک اہلیہ اور تین بیٹیاں ہیں جو سیکنڈ فلور پر رہائش پذیر ہیں۔ تمام بچیاں شادی شدہ ہیں۔ انتقال کے وقت اس کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔
(4)۔۔۔ سردار اختر، بیٹی، جو کہ شادی شدہ ہے اور اپنے سسرال میں رہائش پذیر ہے۔
(5)۔۔۔ کوثر پروین، بیٹی، جو کہ شادی شدہ ہے اور اپنے سسرال میں رہائش پذیر ہے۔
(6) ۔۔۔ یاسمین، بیٹی، جو کہ شادی شدہ ہے اور اپنے سسرال میں رہائش پذیر ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ مکان ان تمام ورثا میں کیسے تقسیم ہوگا؟
مندرجہ بالا مسئلہ سے جڑا ایک مسئلہ اور ہے۔ مسماۃ نسیم بانو زوجہ محمد اقبال مرحوم کی طرف سے اس مسئلے اور ایک نام نہاد معاہدہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی پوچھا جا رہا ہے۔ اس معاہدہ کی کاپی منسلک ہے، معاہدہ کی مندرجات درجِ ذیل ہیں۔
25 دسمبر 2016 کو مذکورہ مکان (جس کا ذکر پہلے سوال میں آچکا ہے) کے فرسٹ فلور پر رہائش پذیر عبد الفاروق نے سیکنڈ فلور پر رہائش پذیر محمد اقبال سے سیکنڈ فلور کی خرید و فروخت کا زبانی معاہدہ کیا، بعد میں اس کو تحریری شکل بھی دی گئی، لیکن اس پر عبد الفاروق نے دستخط نہیں کیے۔ اس وقت سیکنڈ فلور کی قیمت چالیس (40) لاکھ روپے طے پائی اور تین بہنوں میں سے ہر ایک کو پندرہ، پندرہ (15، 15) لاکھ روپے دینے کی حامی بھری اور یہ کہ تمام رقم تین سے چار سالوں میں ادا کردی جائے گی۔ تین بہنوں کو تو ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا، البتہ اس معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے محمد اقبال نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر اور ان کی بیوہ نسیم اقبال نے مختلف مواقع پر گھر کے اخراجات کے لیے عبد الفاروق اور اس کے بیٹوں سے آج 1 مئی 2023 تک دس لاکھ پچاس ہزار (1,050,000) روپے وصول کیے ہیں۔
قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس معاہدہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
وضاحت نمبر 1: محمد اقبال مرحوم کی بیوہ نسیم بانو اور تینوں بہنوں سردار اختر، کوثر پروین اور یاسمین سے فون پر بات ہوئی، ان تینوں کا کہنا تھا کہ 2016 میں عبد الفاروق اور اس کے بیٹوں نے ہمیں زبانی بتایا کہ اس گھر میں آپ کا جو حصہ ہے وہ ہمیں دیدو، محمد اقبال سے کہا کہ آپ کو آپ کے حصے کے 40 لاکھ روپے دیدیں گے اور تین بہنوں میں سے ہر ایک سے کہا کہ آپ کو آپ کے حصے کے 15 لاکھ روپے دیدیں گے۔ نسیم بانو صاحبہ کا کہنا ہے کہ میرا شوہر محمد اقبال اور میں اس وقت راضی تھے، ہم نے کہا ٹھیک ہے، تحریری معاہدے پر میں نے دستخط بھی کیا، لیکن انہوں نے ہمیں بر وقت پورے پیسے نہیں دئیے، اس لیے اب ہم اس معاہدہ کو نہیں مانتے اور ان سے گھر میں موجودہ قیمت کے اعتبار سے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سردار اختر، کوثر پروین اور یاسمین کا بھی یہی کہنا ہے کہ ہم اس وقت اس قیمت پر راضی تھیں، ہم نے کہا ٹھیک ہے، ہم نے تحریری معاہدے پر دستخط بھی کیے، لیکن انہوں نے ابھی تک ہمیں ایک روپیہ بھی نہیں دیا، اس لیے اب ہم اس قیمت پر راضی نہیں، بلکہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے حصے کا مطالبہ کرتی ہیں۔
تحریری معاہدے کا خلاصہ، از مجیب: منسلکہ تحریری معاہدہ میں بیع یعنی خرید وفروخت کی تصریح نہیں ہے، معاہدے میں محمد اقبال اور ان کی اہلیہ نسیم بانو نے لکھا ہے کہ ہم نے والد صاحب کے گھر کی زمین سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، پھر چند تمہیدی باتوں کے بعد لکھا ہے کہ آپ ہمیں کم از کم 60 یا 70 لاکھ روپے دیں، اس کے بعد پھر گھر خالی نہ کروانے اور دوسرا مکان بک کروانے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہاں تک تحریری معاہدہ میں بہنوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، البتہ نسیم بانو زوجہ محمد اقبال کے دستخط کے بعد تینوں بہنوں کے دستخط بھی ہیں۔ نسیم بانو کے دستخط کے نیچے 40 لاکھ روپے اور اس کے نیچے 48 گز زمین لکھی گئی ہے، جبکہ تینوں بہنوں میں سے ہر ایک بہن کے دستخط کے نیچے 15، 15 لاکھ روپے اور اس کے نیچے 24، 24 گز زمین لکھی گئی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوتے ہیں۔ اس کے ترکہ سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جاتے ہیں، البتہ اگر یہ اخراجات کوئی بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کردے تو پھر ترکہ سے نہیں نکالے جاتے۔ دوسرے نمبر پر اگر اس پر کسی کا کوئی قرض ہو تو وہ ادا کیا جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کی ایک تہائی تک اس کو پورا کیا جاتا ہے، وصیت اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو تو ایک تہائی سے زیادہ وصیت پوری کرنا ورثا پر لازم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد چوتھے نمبر اس کے ورثا کے درمیان باقی ماندہ ترکہ کی تقسیم ہوتی ہے۔
اولاد کے درمیان والدین کے مکان کی تقسیم
صورتِ مسئولہ میں اگر عبد الرحمن سیٹھ جی اور ان کی زوجہ کی تجہیز وتکفین کے اخراجات ادا ہوچکے ہوں، ان پر کوئی قرض نہ ہو اور نہ ہی انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو 216 مربع گز کے اس مکان میں تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو اڑتالیس، اڑتالیس (48، 48) مربع گز اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو چوبیس، چوبیس (24، 24) مربع گز ملے گا۔ اگر مکان کی تقسیم قیمت کی شکل میں کرنا چاہیں تو تقسیم کے وقت اس مکان کی جو قیمت ہوگی(چاہے ساڑھے پانچ کروڑ ہو یا اس سے کم و بیش)، اس کو کل نو (9) حصوں میں تقسیم کر کے تین بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو، دو (2، 2) حصے اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ ملے گا۔
والدین کے بعد فوت ہونے والے دو بیٹوں کے حصے کی تقسیم
اب چونکہ عبد الرحمن سیٹھ جی کے دو بیٹوں عبد السلام اور محمد اقبال کا انتقال ہوچکا ہے، اس لیے ان دونوں کو والدین کے اس گھر میں جو حصہ ملے گا، وہ ان کے ورثا میں تقسیم ہوگا۔
عبد السلام کے ورثا اس کی اہلیہ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔ لہٰذا عبد السلام کے حصے کو کل چالیس (40) حصوں میں تقسیم کر کے اس کی اہلیہ کو پانچ (5) حصے، بیٹے کو چودہ (14) حصے اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو سات، سات (7، 7) حصے ملیں گے۔
جبکہ محمد اقبال مرحوم کے ورثا میں اس کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ اس کا زندہ بھائی عبد الفاروق بھی شامل ہے۔ لہٰذا محمد اقبال کے حصے کو کل بہتر (72) حصوں میں تقسیم کر کے اس کی اہلیہ کو نو (9) حصے، تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو سولہ، سولہ (16، 16) حصے اور باقی ماندہ پندرہ (15) حصے اس کے بھائی عبد الفاروق کو ملیں گے۔
عبد الفاروق، محمد اقبال اور ان کی تین بہنوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حکم
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کی روشنی میں جب محمد اقبال صاحب نے 2016ء میں اپنی رضامندی سے 216 مربع گز کے مکان میں سے اپنا اڑتالیس (48) گز کا پورا حصہ عبد الفاروق صاحب اور ان کے بیٹوں کو چالیس (40) لاکھ روپے کے بدلے دیدیا تھا تو ان کا حصہ ان کی ملکیت سے نکل کر عبد الفاروق صاحب کی ملکیت میں چلاگیا تھا۔ اسی طرح سردار اختر صاحبہ، کوثر پروین صاحبہ اور یاسمین صاحبہ نے جب 216 مربع گز کے مکان میں سے اپنا اپنا چوبیس، چوبیس (24، 24) گز کا حصہ عبد الفاروق صاحب اور ان کے بیٹوں کو پندرہ، پندرہ (15، 15) لاکھ روپے کے بدلے میں دیدیا تھا تو ان میں سے ہر ایک کا حصہ اس کی ملکیت سے نکل کر عبد الفاروق صاحب کی ملکیت میں چلا گیا تھا۔
اس طرح خرید و فروخت کا عقد زبانی مکمل ہونے کے بعد عبد الفاروق صاحب پر لازم تھا کہ محمد اقبال صاحب اور اپنی تینوں بہنوں میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں کی قیمت بر وقت ادا کرتے، بلا وجہ قیمت کی ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول ہرگز جائز نہیں تھا، تاہم اس کی وجہ سے خرید و فروخت کا معاملہ ختم نہیں ہوا؛ لہٰذا اب محمد اقبال مرحوم کی زوجہ نسیم بانو اور تینوں بہنیں عبد الفاروق سے آج کی قیمت کا مطالبہ نہیں کرسکتیں۔ پھر محمد اقبال مرحوم اور نسیم بانو صاحبہ چونکہ اپنے حصے کے چالیس لاکھ روپے میں سے دس لاکھ پچاس ہزار وصول کرچکے ہیں، اس لیے عبد الفاروق پر لازم ہے کہ ان کی بقیہ رقم اور اپنی تینوں بہنوں کی پوری رقم جلد از جلد ان کے حوالے کرے۔
نوٹ: جیساکہ اوپر محمد اقبال مرحوم کے حصے کی تقسیم میں یہ بات گزری کہ اس کے ورثا میں اس کا زندہ بھائی عبد الفاروق بھی شامل ہے، اس لیے محمد اقبال مرحوم کے حصے کی قیمت میں عبد الفاروق کو اپنے حصۂ میراث (جس کی تفصیل اوپر گزرچکی ہے) کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لیکن اگر وہ اپنی رضامندی سے اپنا یہ حصہ نسیم بانو زوجہ محمد اقبال اور ان کی بیٹیوں کو دیدے اور اپنی تینوں بہنوں کو بھی اپنی طرف سے ان کے حصوں کی مقررہ قیمت سے کچھ زیادہ دیدے تو ان شاء اللہ امید ہے کہ اس سے ادائیگی میں تاخیر کی تلافی ہوجائے گی۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11].
صحيح البخاري (3/ 94):
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع.
السراجی فی المیراث: 18:
أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد و ولد الابن و إن سفل، و الثمن مع الولد أو ولد الولد و إن سفل.
و فی صفحة: 36:
العصبات النسبیة ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغیره، و عصبة مع غیره. أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل فی نسبته إلی المیت أنثی، وهم أربعة أصناف: جزء المیت، و أصله، و جزء أبیه، و جزء جده، الأقرب فالأقرب، یرجحون بقرب الدرجة، أعنی أولاهم بالمیراث جزء المیت أی البنون ثم بنوهم و إن سفلوا، ثم أصله أی الأب ثم الجد أی أب الأب و إن علا، ثم جزء أبیه أی الإخوة ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم جزء جده أی الأعمام ثم بنوهم وإن سفلوا.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
1/ ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


