| 80170 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص نے اپنے بیوی سے غصہ کی حالت میں کہاکہ"جاؤ اپنے گھر،تمہیں طلاق ہے"وہ عورت اپنے والدین کے گھر چلی گئی 40 دن گزنے کے بعد اب میاں بیوی دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کرناچاہتے ہیں توکیااس کا کیاحکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئولہ صورت میں خاوند نے دو لفظ بولے ہیں: "جاؤاپنےگھراور"تمہیں طلاق ہے"ان میں سے پہلالفظ ہے"جاؤاپنےگھر" یہ عربی لفظ "اذھبی" کے ہم معنی ہیں اوراس میں شوہر کی نیت کا اعتبارہوتاہے،بغیر نیت کے طلاق نہیں ہوتی،جبکہ دوسرا لفظ"تمہیں طلاق ہے"طلاق میں صریح ہےجس کے لیے نیت کی ضرورت نہیں۔ لہذا اگرشوہرنےپہلے لفظ"جاؤاپنےگھر"سے طلاق کی نیت کی تھی تو پھر اس سےایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اوردوسرے لفظ "تمہیں طلاق ہے"سے دوسری طلاق بائن واقع ہوگی،اس لیےکہ صریح بائن کے ساتھ عدت کے اندرلاحق ہوتی ہے اوریہ اس کو بھی بائن بنادیتی ہے،لہذا اس صورت میں دو بائن طلاقیں واقع ہوں گی،اگر اس سے پہلے یا بعدمیں شوہر نے کوئی اورطلاق نہ دی ہوتو پھروہ عدت کے اندراوربعد نیانکاح اس عورت کےساتھ کرسکتاہے ۔
اوراگرشوہرنے پہلے لفظ "جاؤاپنےگھر"سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو پھر اس لفظ سےتو کوئی طلاق نہیں ہوئی،البتہ دوسرے لفظ "تمہیں طلاق ہے" سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی جس کے بعد عدت میں بغیر نکاح کےرجوع بھی ہوسکتاہے اورعدت کے بعد نیا نکاح بھی ہوسکتاہے۔
حوالہ جات
وفی العالمگیریة:
لوقال لھا اذھبی ای طریق شئت لا یقع بدون النیۃ وان کان فے حال مذاکرۃ الْطلاق (وقبیلہ) وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینک عمل ونوی تقع (عالمگیری مصری باب الکنایات ج ۱ ص ۲۵۳) ظفیر.
وفی ’’البحر الرائق‘‘:
ان من الکنایات ثلاثۃ عشر لا یعتبر فیھا دلالۃ الحال ولا تقع الا بالنیۃ اخرجی اذھبی لا نکاح لی علیک (۳؍۳۰۳)
البحر الرائق(3/ 326):
’’ (قوله: اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك، قيد باقتصاره على اذهبي؛ لأنه لو قال: اذهبي فبيعي
ثوبك لا يقع، وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى،كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان‘‘.
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ:
ما یصلح ردا منھا اخرجی وحکم ھذا القسم ان الطلاق لا یقع الا بالنیۃ (۳؍۳۴۲)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 6 / ص 358)
ولو قال لها: اذهبي فتزوجي لا يقع الطلاق إلا بالنية، وإن نوى فهي واحدة بالله وإن نوى الثلاث فهي ثلاث، وإذا قالت لزوجها طلقني فقال: لا أفعل فقالت إن لم تطلقني أذهب فأتزوج فقال الزوج: سوى كن خوانتي بكلي خواهي دوخواهي نية لا يقع الطلاق في «واقعات الصدر الشهيد» رحمه الله، ولو قال: اذهبي البسي الثوب أو قال: اذهبي فتقنعني أو ما أشبه ذلك فأراد بقوله: اذهبي الطلاق لا تطلق.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 362)
ولو قال لها اذهبي وتزوجي لا يقع الطلاق إلا بالنية ، وإن نوى فهي واحدة بائنة ، وإن نوى الثلاث فهي ثلاث ا هـ .
الدر المختار للحصفكي - (ج 3 / ص 336)
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 377)
( قوله : والصريح يلحق الصريح ، والبائن ) فلو قال لها : أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني وكذا لو قال لها : أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها : أنت طالق أو هذه طالق كما في البزازية يقع عندنا لحديث الخدري مسندا { المختلعة يلحقها صريح الطلاق ما دامت في العدة }
الهداية في شرح بداية المبتدي - (2 / 254)
" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالرشید
30/10/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


