| 80073 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری والدہ مرحومہ کا کچھ زیور میرے پاس اور کچھ میرے بھائی کے پاس تھا، جو والدہ مرحومہ کے انتقال کے بعد بھائی نے فروخت کردیا تھا۔ اس کی اطلاع مجھے بعد میں ملی اور بھائی نے بھی اقرار کیا کہ وہ زیور انہوں نے تقریبا ستر ہزار (70,000)میں فروخت کردیے تھے۔ لہٰذا جو سونا میرے پاس تھا وہ میں نے بھی تقریبا پچاس ہزار (50,000) میں فروخت کردیا تھا۔ یہ معاملات ۵۱۰۲ء میں ہوئے۔ اب والدہ کا مکان جو ستائیس لاکھ (27,00,000) کا فروخت ہوا اور اس پر واجبات، سرکاری کاغذات اور ٹرانسفر وغیرہ میں تقریباً تین لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
زیورات کی رقم کو کس طرح تقسیم کریں جو ۲۰۱۵ میں ہی فروخت ہوگئے تھے اور کسی نے ایک دوسرے کو کچھ نہیں دیا تھا؟ مکان کے واجبات یعنی تین لاکھ(300,000) روپے کس طرح نکالیں؟ ہر ایک وارث کے حق میں کتنی رقم مکان کی آئے گی براہ کرم شرعی راہنمائی فرمائیں اور مکمل حساب سمجھا دیں۔
وضاحت: مرحومہ کے انتقال کے وقت مرحومہ کے والدین اور شوہر میں سے کوئی حیات نہیں تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کےترکہ میں سے پہلےتجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان نہ اٹھائے ہوں، دوسرے نمبر پر قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی پھراگر کوئی جائزوصیت کی ہوتوان کے کل ترکہ کے ایک تہائی (1/3)حصے میں نافذ ہوگی۔اس کے بعد جو مال بچ جائے گا اس کے 3حصے کیے جائیں گے، دو حصے بھائی کے اور ایک حصہ بہن کا ہوگا۔
وراثت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس طرح کے عمل پر تمام ورثاء راضی ہوں تو درست ہے ورنہ اس مال میں بھی ہر وارث کو اس کے شرعی حصے کے مطابق وصول کرنے کا اختیار ہے۔ ذکر کردہ صورت میں اگر آپ دونوں والدہ کے زیور کو اس طرح بیچنے پر راضی ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ زیورات کی کل قیمت یعنی 1,20,000(ایک لاکھ بیس ہزار)روپے میں بھی اوپر ذکر کردہ تفصیل کےحساب سے حصے ہونگے۔
مکان کے واجبات دونوں پر ان کے شرعی حصے کے مطابق آئیں گے یعنی 3 لاکھ کے واجبات میں بھی دو حصے (2 لاکھ روپے)بھائی کے ذمہ اور ایک حصہ (ایک لاکھ روپیہ)بہن کے ذمہ آئے گا۔
اس نقشے کے مطابق دونوں میں وراثت تقسیم ہوگی۔
|
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بھائی |
2 |
66.6666% |
|
بہن |
1 |
33.333 |
حوالہ جات
۔۔۔
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۰۲/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


