03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سالانہ بونس کو بینک کے نفع کے ساتھ تقسیم کرنا
80146سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

بندہ فیکٹری میں کام کرتا ہے، وہاں پر سال کے بعد 5 فیصد بونس دیا جاتا ہے اور اس 5 فیصد بونس کو فیکٹری والے بینک وغیرہ میں لگادیتے ہیں اور پھر چند ماہ بعد اس بونس کو مزدووں کے درمیان تقسیم کردیا جاتا ہے۔ کمپنی والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں اتنی رقم اور بینک میں رکھنے کی وجہ سے اس رقم میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور تمام تر مزدوروں کو بمع بینک کے منافع کے تقسیم کردیا جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اب ان مزدوروں کے لیے اس منافع والی رقم کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

          بونس کمپنی/ فیکٹری مالکان کی جانب سے ملازمین کے لیےہدیہ(ہبہ)ہوتا ہے۔ہدیہ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جس شخص کی آمدن مکمل حرام ہو اس سے ہدیہ لینا جائز نہیں ہےاور جس شخص کی آمدن کا پتا نہ ہو لیکن یہ یقین یا غالب گمان ہو کہ اس کے پاس حلال آمدن بھی ہے تو ایسے شخص سے ہدیہ لینے کی گنجائش ہے۔

          اس تفصیل کے بعد سوال میں پوچھی گئی صورت میں ملازمین کے لیے  بونس اور اضافی رقم دونوں لینا جائز ہے البتہ اگر کمپنی وہ اضافی رقم سودی بینک میں رکھ کر حاصل کرتی ہےتو اس سے بچنا بہتر ہے۔

حوالہ جات

فقہ البیوع؛ج۲، ص۱۰۳۸

الصورة الرابعة: أن المال مركب من الحلال والحرام، ولا يعرف أن الحلال مميز من الحرام أو مخلوط غير مميز. وإن كان مخلوطاً فكم حصة الحلال فيه.والأولى في هذه الصورة التنزه، ولكن يجوز للأخذ أن يأخذ منه بعض ماله هبة أو شراء، لأن الأصل الإباحة. وينبغى أن يُقيَّد ذلك بأن يغلب على ظن الأخذ أن الحلال فيه بقدر ما يأخذه أو أكثر منه.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۴/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب