| 80234 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک میاں بیوی ہیں جن کی شادی تقریبا4سال پہلے ہوئی ،صورت حال یہ تھی کہ خاوند کی پہلی بیوی تھی جس کو اس نے طلاق دی تھی اوراس سے دو بیٹے اورایک بیٹی تھے جو اب خاوند کے پاس ہی تھے ،جبکہ دوسری بیوی کی بھی یہ دوسری شادی تھی اوراس کے بھی پہلے خاوند سے ایک بیٹی تھی جو اس عورت کے والدین کے پاس رہتی تھی اورآج تک وہی رہتی ہے ،وہ دونوں میاں بیوی آپس میں عرصہ 14سال سے خوش باش رہ رہے تھے اوراس دوسری بیوی نے اپنے خاوند کی پہلی بیوی کے دونوں بیٹوں اوربیٹی کی شادی بھی کروادی تھی،تقریباًعرصہ چارماہ سے خاوند کو فالج ہوا جس کا اثر ان کے دماغ پر بھی ہوا اور ان کی حالت مزید خراب ہوتی گئی ،بیوی خاوند کی خدمت بھی کرتی رہی مگر اس دوران اس کی جو بیٹی پہلے خاوند سے تھی وہ بیمار ہوگئی تو اس کی عیادت اور والدین سے ملنے کےلیے یہ بیوی والدین کے گھر چلی گئی اورتقریباًبیس پچیس دنوں کے بعد واپس آگئی ،باقی گھر والوں سے ملنے کے بعد اپنے خاوند کو بھی سلام کیامگر فالج کی بیماری کی شدت کی وجہ سے ان کی دماغی حالت یہ ہوچکی تھی کہ وہ اپنی بیوی کونہ پیاردیتاہے اورنہ ہی آنے جانےوالوں کو پہچان سکتاہے کہ یہ کون آیاہےاورگیاہے ؟بیماری کی شدت ایسی ہے کہ ان کو پیشاب کی نالی لگی ہوئی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی پاخانہ تک کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔
ایسی صورت ِ حال میں مسئلہ یہ پیداہوا ہےکہ خاوندکے بھائی محمد اسماعیل نے یہ الزام لگایاہے کہ تمہارے خاوند نے تمہاری عدم ِموجودگی میں تمہیں طلاق دیدی ہے اوراس الزام کو ثابت کرنے کے لیے اس نے خاوند کی پہلی بیوی کے بچوں کو بھی اپنے ساتھ ملایاہے،اب وہ اس بات پر اصرارکررہے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے ،اب آپ اپنے والدین کے گھر چلی جائیں تاکہ کل کو ہم جائیداد پر قابض ہوسکیں،ایسی صورت حال میں مسئلہ یہ پوچھناہے کہ
1۔ کیا اس طرح کی حالت میں طلاق ہوئی ہے یانہیں ؟ جبکہ وہ وجھوٹ بول کر جائید اد سے بیوی کو محروم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
2۔ خاوند فالج کی وجہ سے آج کے دن تک ہوش اورحواس میں نہیں ہیں کیونکہ ان کی بہن نے سوال کیا کہ تو نے اپنی بیوی کوطلاق دیدی ہے ؟تو خاوند نے اس پر کوئی جواب نہیں دیااورنہ ہی کوئی اشارہ کیا،خاوند زندگی اورموت کے کشمکش میں ہیں یعنی قریب المرگ ہیں جبکہ خاوند سے پہلی بیوی کے بیٹے اوراس کے بھائی محمد اسماعیل چاہتے ہیں کہ اس بیوی کو جائیداد میں حصہ نہ ملے، اس لیے وہ اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ خاوندنے اس بیوی کو طلاق دیدی ہے ۔ عرض یہ کرنا ہےکہ ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فتوی دیدیں تاکہ دین اسلام کے مطابق صحیح فیصلہ کیاجاسکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(١،۲)صورتِ مسئولہ میں اگرواقعةً مریض کی حالت یہ ہو کہ اس کے حوش وحواس برقرارنہیں ہے اورپوچھنے پربھی جواب نہیں دیتااورنہ ہی کوئی اشارہ کرتاہے تو ایسی مریض کی تو سرےسے طلاق ہوتی ہی نہیں ہے ، لہذا مسئولہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی لہذاخدانخواستہ اگراس کے شوہر کا انتقال ہوجاتاہے تو دیگر ورثہ کی طرح اس بیوی کو بھی میراث میں اپنا شرعی حصہ ملے گا۔
واضح رہے کہ اگر مریض اس سے اچھی حالت اورہوش وحواس میں بھی ہوتاتب بھی طلاق کی ثبوت کےلیے دو عادل مرد یا ایک مرد اوردو قابل اعتبار عورتوں کی گواہی درکارہوتی ،اس لیے کہ عورت طلاق سے منکرہے اورمسئولہ صورت میں گواہ پورے نہیں ہیں اس لیےکہ بچوں کی گواہی تہمت کی وجہ سےقبول نہیں ہے نیز اگرگواہی قبول بھی کرلی جاتی تب بھی چونکہ مریض کی حالت مرض الموت والی ہے اورایسی صورت میں بحوش وحواس بھی بیوی کو طلاق دینے سےاورپھر عدت میں فوت ہونے سے بیوی میراث سے محروم نہیں ہوتی بوجہ فرارمن المراث کے،لہذا مسئولہ صورت میں بہرکیف طلاق نہیں ہوئی اورعورت میراث سے محروم نہیں ہوگی ۔
یہ یاد رہےکہ شریعت مطہرہ نے جس طرح اصل ترکہ میں مذکر ورثاء (لڑکوں وغیرہ) کے حصص مقرر کیے ہیں ، اسی طرح مؤنث ورثاء (بیوی وغیرہ) کے بھی حصے بیان کیے ہیں۔پھر میراث کی تقسیم میں لوگوں کی لغزشوں اورکوتاہیوں کی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے پاک کلام میں میراث کے اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ جزئیات تک بیان فرما دیں اور اس کے لیے ایک قانون اور ضابطہ مقرر کردیا اورمیراث کو شرعی اصول وضوابط کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے کےلیے قرآن میں اسی طرح اپنے نبی کے ذریعےاحادیث میں سخت سے سخت وعیدیں بھی ارشاد فرمادی اور ان حدود پر گامزن نہ رہنے والوں کو جہنم کے دائمی عذاب کے ذریعے متنبہ کیا ہے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایسے شخص کے متعلق بیان فرمایا ”جس نے اپنے وارث کا حق مارا، قیامت کے روز الله تعالیٰ اس کو اس کے جنت کےحصہ سے محروم کر دیں گے “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جس شخص نے کسی کی زمین سے ظلماً ایک بالشت جگہ لی تو اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنا یا جائے گا۔“
وراثت میں سے مؤنث ورثہ کومیراث سے محروم کرنےکی کوشش کرنا زمانہ جاہلیت کی بُری رسم ہے ، جوکہ شریعت سے متصادم ہے، اس کا ترک ہمارے ذمہ فرض اور ضروری ہے ۔جو شخص کسی وارث کی شرعی حیثیت کو بدلتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلتا ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔ سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنھیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
جس نےاللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی( اپنے وارث کی) میراث کو کاٹ دیااللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹیں گے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 10 / ص 179)
( باب طلاق المريض ) .، والمراد به هنا من عجز عن القيام بحوائجه خارج البيت كعجز الفقيه عن الإتيان إلى المسجد وعجز السوقي عن الإتيان إلى دكانه فأما من يذهب ويجيء ويحم فلا ، وهو الصحيح ، وهذا في حقه أما في حقها فيعتبر عجزها عن القيام بمصالحها داخل البيت كذا في البزازية ، وزاد في فتح القدير أن لا تقدر على الصعود إلى السطح ، وفي صلاة المريض الذي يباح له ترك القيام أن يكون بحيث يلحقه بالقيام ضرر على الأصح كما في الجوهرة ، وليس الحكم هنا مقصورا على المريض بل المراد من يخاف عليه الهلاك غالبا ، وإن كان صحيحا كما سيأتي ، وقد علم من كلامهما أنه لا يجوز للزوج المريض التطليق لتعلق حقها بماله إلا إذا رضيت به
شرح الوقاية لعلي الحنفي - (ج 3 / ص 358)
(من غالب حاله الهلاك) مبتدأ (كمريض عجز عن إقامة مصالحه خارج البيت) سواء عجز عن إقامتها داخل البيت أو لم يعجز (ومن بارز) في الحرب، عطف على مريض (أو قدم ليقتل لقصاص أو رجم) ونحوهما (مريض) خبر المبتدأ (مرض الموت) (احتراز عمن أبانها في مرضه ثم صح ثم مات) ولأن الغالب في هذه الأشياء الهلاك.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 18 / ص 188)
وأما الوارثان إذا شهد للموصى إليه وكان الموت غير ظاهر لا يقبل شهادتهما سواء كان المشهود له طالباً بذلك أو كان جاحداً؛ لأنهما يثبتان لأنفسهما وجوب الميراث بالموت وينصبان لأنفسهما من يقوم بحقوقهما، وعلى التصرف لهما فقد جرّا إلى أنفسهما مغنماً فلا تقبل شهادتهما،
العناية شرح الهداية - (ج 5 / ص 385)
امرأة الفار ترث استحسانا ، وإنما يثبت حكم الفرار بتعلق حقها بماله ، وإنما يتعلق بمرض يخاف منه الهلاك غالبا كما إذا كان صاحب الفراش وهو أن يكون بحال لا يقوم بحوائجه كما يعتاده الأصحاء ، وقد يثبت حكم الفرار بما هو في معنى المرض في توجه الهلاك الغالب ،
الفتاوى الهندية (1/ 462):
"قال الخجندي: الرجل إذا طلق امرأته طلاقًا رجعيًّا في حال صحته أو في حال مرضه برضاها أو بغير رضاها ثم مات وهي في العدة فإنهما يتوارثان بالإجماع، وكذا إذا كانت المرأة كتابيةً أو مملوكةً وقت الطلاق فأسلمت في العدة أو أعتقت في العدة فإنها ترث، كذا في السراج الوهاج.ولو طلقها طلاقًا بائنًا أو ثلاثًا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث، وهذا إذا طلقها من غير سؤالها، فأما إذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها، كذا في المحيط".
مسند أحمد مخرجا (34/ 299):
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: «يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم؟» قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام، قال: «فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه» ، ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
وفی السنن الكبرى للبيهقي (۳/ ۵١٦):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت عنده مظلمة لأخيه من عرضه، أو ماله؛ فليؤدها إليه قبل أن يأتي يوم القيامة، لا يقبل فيه دينار ولا درهم؛ إن كان له عمل صالح أخذ منه، وأعطي صاحبه، وإن لم يكن له عمل صالح أخذ من سيئات صاحبه؛ فحملت عليه ". رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس، عن ابن أبي ذئب بمعناه إلا أنه قال: " فليتحلله منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم ".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
٦/١١/١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


