03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے تعنت کی وجہ سے عدالتی خلع
80256طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

 کم و بیش 3 سال سے یہ حالات ہیں کہ نان نفقہ دینے میں بہت تنگ کیا ہوا تھا،حالات بہت پیچیدہ ہو گئے تھے، خلع کا مطالبہ کیا تو بولا کہ ہاں کردوں گا فیصلہ،لیکن نہیں کیا اور رابطہ منقطع ہوگیا، پھر کورٹ سے خلع کا مطالبہ کیا جو کہ کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ تنسیخ نکاح میں آتا ہے  اور یکطرفہ فیصلہ ہوگیا اب، لیکن بچوں کا مسئلہ بن رہا ہے، وہ کہہ رہے بچے مجھے دے دو،جبکہ کورٹ سے بچوں کی کسٹڈی میرے پاس آئی ہے۔

اور وہ مطلب شوہر کہتے ہیں کہ میں کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا ہوں لہٰذا نکاح باقی ہے اور آپ کہیں اور نکاح نہیں کرسکتی ہیں، سمجھ نہیں آرہا اب کچھ آپ کچھ رہنمائی فرمائیں۔

کیونکہ وہ کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانتے یہ کہہ کر کہ تم میری بیوی ہو تو اس کا حق صرف مجھے ہی ہے کہ میں رکھوں یا چھوڑوں،جج کی بیوی نہیں ہو تم جو ادھر سے فیصلہ ہوگیا۔

ایک یہ بات بھی ہے کہ ان کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی کہ آپ حاضر نہ ہوئے تو نکاح فسخ کردیا جائے گا تو اب اس کی وجہ سے فیصلے پر کوئی فرق پڑے گا؟

شرعی بنیاد کے حساب سے تو حضرت میرے علم میں جتنے بھی فتوے نظر سے گزرے اس میں یہی پڑھا کہ عورت 2 شرعی گواہوں کے ذریعے سے ثابت کرے کہ یہ صورتحال ہے،لیکن میرے کیس میں ایک گواہ میرا بھائی تھا اور جو دوسرا گواہ بنا اسے میں نہیں جانتی تھی اور نہ وہ اس دن حاضر ہوا،اگلے دن حاضر ہو کر اس نے جو بیان دیا وہ مجھے نہیں معلوم۔

اسکے بعد جج جو کہ ایک خاتون تھیں انہوں نے یک طرفہ فیصلہ سنایا وہ بھی میرے سامنے نہیں سنایا گیا،شاید کورٹ کی یہی policy ہے۔

وہ یعنی شوہر ایک پیشی پر حاضر نہ ہوا دوسرا نوٹس ان کے والد کے گھر بھیجا گیا تھا،جبکہ شوہر کے بقول ان کو کوئی اطلاع نہیں ملی اور تیسری پیشی کی تاریخ بتائی ہی نہیں گئی انہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ فلاں تاریخ کو فیصلہ ہو جائے گا۔

تنقیح : سائلہ سے فون پر تنقیح سے درج ذیل معلومات حاصل ہوئیں:

1۔دوسرے گواہ کو نہ وہ جانتی ہے اور نہ اس کا بھائی،بلکہ وکیل نے اس گواہ کا انتظام کیا تھا،البتہ وکیل ان کے خاندان کا فرد ہے،لیکن جس نے گواہی دی وہ اس وکیل کے ساتھ کام کرنے والا ہے۔

2۔شادی کو تقریبا آٹھ سال ہوچکے ہیں،شروع کے تین چار سال تو جوائنٹ فیملی میں ہونے کی وجہ سے شوہر کے والد اخراجات برداشت کرتے رہے،لیکن پھر پتہ چلا کہ اس لڑکے نے دوسری شادی کی،جس پر والد نے اسے گھر سے نکال دیا،پھر اس کے بعد سے نان نفقہ کے مسائل شروع ہوگئے،جس کی وجہ سے مجبور ہوکر لڑکی تقریبا تین بار والد کے گھر آئی،لیکن ہربار وہ یہ کہہ کر لے گیا اب شکایت نہیں ہوگی،لیکن جانے کے بعد پھر وہی مسائل ہوتے،اس لئے لڑکی والوں نے مجبور ہوکر کورٹ سے رجوع کیا۔

3۔شوہر اس شرط پر خلع دینے کو تیار ہے کہ بچے اس کے حوالے کردیئے جائیں،واضح رہے کہ دو بچے ہیں ایک ڈھائی سال کا اور دوسرا چھ سال کا،جبکہ عدالت نے بچے والدہ کی کسٹڈی میں دیئے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے،جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے:

ا۔شوہر نامرد ہو۔

۲۔ متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔

۳۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔

۴۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو۔

۵۔ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)

اگرسوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہو تو مذکورہ صورت میں شرعاً فسخ نکاح کی معقول وجہ(شوہر کا تَعَنُّت) موجود ہے اور عورت کی جانب سے اپنے دعوی پر دوگواہ بھی پیش کئے گئے،لیکن چونکہ عدالت میں پیش کئے گئےدوگواہوں میں سے ایک گواہ ایسا تھا جسے بذاتِ خود عورت کے کئے گئے دعوی کے حوالے سے علم نہیں تھا،بلکہ محض وکیل کے بتانے پر اس نے گواہی دی،حالانکہ گواہی دینے کے لئے بذاتِ خود مشاہدہ ضروری ہےیا بعض صورتوں میں کسی بات کی شہرت یا کم از کم دو صالح اور قابل اعتماد مردوں یا انہیں صفات کی حامل دو عورتوں یا ایک مرد کے خبر دینے پر بھی گواہی کی گنجائش ہے،جس کی وجہ سے اس فیصلے باطنی طور پر نفاذ کے حوالے سے ائمہ احناف کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں باطنی طور پر بھی نافذ ہے،جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک ایسا فیصلہ باطنی طور پر نافذ نہیں ہوتا اور اس حوالے سے فقہاء نے صاحبین کے قول کو ترجیح دی ہے۔

اس لئے  اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ بچوں کو عارضی طور پر شوہر کی کسٹڈی میں دینے پر آمادگی ظاہر کرکے اس سے خلع لے لی جائے،پھر بعد میں عدالت سے رجوع کرکے بچوں کو واپس اپنی کسٹڈی میں لے لیا جائے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (4/ 3):

"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي".

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (4/ 318):

"والمشهور على قسمين: أحدهما أن يكون مشهورا بالشهرة الحقيقية ويدعى ذلك بالتواتر. والآخر أن يكون مشهورا شهرة حكمية والشهرة الحكمية تحصل بإخبار شهود بنصاب الشهادة على طريق الشهادة والاشتهار يطلق على العلم الذي يكون بالتواتر والشهرة أو بإخبار مخبرين عدلين أو بمخبر عدل (القهستاني) ".

الفتاوى الهندية (1/ 283)

ومن ادعت عليه امرأة نكاحها وأقامت بينة فجعلها القاضي امرأته ولم يكن تزوجها وسعها المقام معه، وأن تدعه يجامعها وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أولا وفي قوله الآخر وهو قول محمد - رحمه الله تعالى - لا يسعه أن يطأها، كذا في الهداية. ثم يجعل قضاء القاضي إنشاء ولهذا يشترط أن تكون المرأة محلا للإنشاء حتى لو كانت ذات زوج أو في عدة غيره أو مطلقة منه ثلاثا لا ينفذ قضاؤه ويشترط حضور الشهود عند القضاء في قول العامة هكذا في التبيين.

وكذا لو ادعى عليها النكاح فحكمه كذلك وكذلك لو قضى بالطلاق بشهادة الزور مع علمها؛ حل لها التزوج بآخر بعد العدة وحل للشاهد تزوجها وحرمت على الأول وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا تحل للأول ولا للثاني وعند محمد - رحمه الله تعالى - تحل للأول ما لم يدخل بها الثاني فإذا دخل بها حرمت عليه لوجوب العدة وأما الثاني فلا تحل له أبدا، كذا في البحر الرائق".

"البحر الرائق "(3/ 116):

"وكذا لو قضى بالطلاق بشهادة الزور مع علمها حل لها التزوج بآخر بعد العدة وحل للشاهد تزوجها وحرمت على الأول وعند أبي يوسف لا تحل للأول ولا الثاني وعند محمد تحل للأول ما لم يدخل بها الثاني فإذا دخل بها حرمت عليه لوجوب العدة كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة، وأشار بقوله: وقضى بنكاحها إلى اشتراط أن تكون محلا للإنشاء حتى لو كانت ذات زوج أو في عدة غيره أو مطلقة منه ثلاثا لا ينفذ قضاؤه؛ لأنه لا يقدر على الإنشاء في هذه الحالة، واختلفوا في اشتراط حضور الشهود عند قوله قضيت فشرطه جماعة للنفاذ باطنا عنده.

وذكر المصنف في الكافي أنه أخذ به عامة المشايخ، وقيل: لا يشترط؛ لأن العقد ثبت بمقتضى صحة قضائه في الباطن وما ثبت بمقتضى صحة الغير لا يثبت بشرائطه كالبيع في قوله أعتق عبدك عني بألف، وذكر في فتح القدير أن الأوجه عدم الاشتراط، ويدل عليه إطلاق المتون، وذكر الفقيه أبو الليث أن الفتوى على قولهما في أصل المسألة أعني عدم النفاذ باطنا فيما ذكر، وفي فتح القدير والنهاية: وقول أبي حنيفة أوجه، وقد استدل له بدلالة الإجماع على أن من اشترى جارية ثم ادعى فسخ بيعها كذبا وبرهن فقضي به حل للبائع وطؤها واستخدامها مع علمه بكذب دعوى المشتري مع أنه يمكنه التخلص بالعتق وإن كان فيه إتلاف ماله فإنه ابتلي بأمرين فعليه أن يختار أهونهما وذلك ما يسلم له فيه دينه اهـ".

"رد المحتار"(ج 12 / ص 122):

"( قوله : وكره تحريما أخذ الشيء ) أي قليلا كان ، أو كثيرا .

والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا { فلا تأخذوا منه شيئا}  إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث ، وتمامه في الفتح ، لكن نقل في البحر عن الدر المنثور للسيوطي : أخرج ابن أبي جرير عن ابن زيد في الآية قال : ثم رخص بعد ، فقال : { فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به } ، قال :فنسخت هذه تلك ا هـ وهو يقتضي حل الأخذ مطلقا إذا رضيت ا هـ أي سواء كان النشوز منه أو منها ، أو منهما .

لكن فيه أنه ذكر في البحر أولا عن الفتح أن الآية الأولى فيما إذا كان النشوز منه فقط ، والثانية فيما إذا لم يكن منه فلا تعارض بينهما ، وأنهما لو تعارضتا فحرمة الأخذ بلا حق ثابتة بالإجماع ، وبقوله تعالى{ ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا } وإمساكها لا لرغبة بل إضرارا لأخذ مالها في مقابلة خلاصها منه مخالف للدليل القطعي فافهم" .

"رد المحتار" (5/ 414):

"وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين.

قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ.

قلت: وظاهره ولو كان القاضي حنفيا ولو في زماننا ولا ينافي ما مر؛ لأن تجويز هذاللمصلحة والضرورة".

"الدر المختار " (3/ 559):

"وإذا أسقطت الأم حقها صارت كميتة، أو متزوجة فتنتقل للجدة بحر".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: فتنتقل للجدة) أي تنتقل الحضانة لمن يلي الأم في الاستحقاق كالجدة إن كانت، وإلا فلمن يليها فيما يظهر، واستظهر الرحمتي أن هذا الإسقاط لا يدوم فلها الرجوع لأن حقها يثبت شيئا فشيئا فيسقط الكائن لا المستقبل اهـ أي فهو كإسقاطها القسم لضرتها، فلا يرد أن الساقط لا يعود لأن العائد غير الساقط، بخلاف إسقاط حق الشفعة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

09/ذی قعدہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب