| 80288 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جامع مسجد جو کہ 30 سال سے آباد ہے، جہاں پانچ وقت کی نمازیں اور جمعہ کی نماز ہوتی ہے، لیکن یہ مسجد سرکاری زمین پر واقع ہے۔ گزشتہ 30 سال کے عرصہ میں سرکاری اداروں کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا، صرف متعلقہ تھانہ کی طرف سے 2008ء میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر گورنمنٹ نے اس جگہ کو خالی کرنے کا حکم دیا تو آپ کو خالی کرنا ہوگا، تو مسجد کی انتظامیہ نے ان کو لکھ کر دے دیا تھا کہ ہم مسجد خالی کر دیں گے، لیکن اس کے بعد کوئی بھی نہیں آیا۔ مسجد میں اِس وقت نمازیوں کی تعداد ہر نماز میں تقریباً 400 یا 500 سو کے قریب ہوتی ہے، جبکہ جمعہ کی نماز میں 1000 سے 1200 سوتک لوگ ہوتے ہیں۔ مسجد کے دائیں طرف ایک جنرل اسٹور ہے، یہ اسٹور والا ہمیشہ مسجد پر اعتراض کرتا ہے، حتی کہ مسجد کی بے حرمتی بھی کرتا ہے، مسجد کی صفوں کو اُٹھا کر پھینکتا ہے، اور اپنی کاریں اور ٹرک وغیرہ کھڑی کرتا ہے۔ نمازی حضرات جب اس کو منع کرتے ہیں تو یہ جواب دیتا ہے کہ یہاں نماز نہیں ہوتی۔ جنرل اسٹور والے کا یہ رویہ صرف اپنے مفاد کے لیے ہے، تاکہ مسجد کی جگہ اُس کو مل جائے۔ کئی لوگوں نے اس کو بہت سمجھایا، لیکن وہ باز نہیں آیا، حتی کہ امامِ مسجد کو بھی اُس نے بُرا بھلا کہا اور غلط الزام لگایا۔
سوال یہ ہے کہ ایسی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اور جنرل اسٹور والے کا رویہ جوکہ مسجد کی بے حرمتی کا سبب بن رہا ہے، اور اسی طرح امامِ مسجد کی تو ہین اور ان پر الزام لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث سے وضاحت فرما ئیں۔
وضاحت: مذکورہ مسجد 1994ء میں بنی تھی۔ یہ مسجد درحقیقت سروس روڈ سے متصل فُٹ پاتھ پہ بنی ہوئی ہے۔ سرکاری منصوبہ کے مطابق فٹ پاتھ کے دونوں اطراف میں سروس روڈ بننی تھی، لیکن لیاری ایکسپریس وے بننے کے بعد فُٹ پاتھ کی دوسری جانب سروس روڈ بننے کا منصوبہ فی الحال منسوخ ہو چکا ہے، اور اُس جگہ پہ اور فٹ پاتھ کے اوپر بھی پتھارے والے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ کئی دفعہ KMC والوں نے ان پتھاروں والوں کو ہٹایا بھی ہے، مگر مسجد کو منہدم کرنے سے گریزاں رہے ہیں؛ کیونکہ کسی نے بھی اُس کو ڈھا دینے کا حکم نہیں دیا۔ انتظامیۂ مسجد کا مستقبل قریب میں مسجد رجسٹرڈ کرانے کا ارادہ ہے۔
جنہوں نے مسجد بنائی تھی، اُنہوں نے باقاعدہ مسجد کی نیت سے بنائی تھی، عارضی مُصلّی بنانا مقصود نہیں تھا۔ جب مسجد بنی تھی اُس وقت مسجد کے سامنے جنرل اسٹور ایک چھوٹی سی دکان پہ واقع تھا۔ لیکن اب جنرل اسٹور والے کا کاروبار وسیع ہوگیا ہے اس لیے اُس کو مسجد پہ اعتراض ہے؛ کیونکہ اُس کو وہاں اپنی گاڑی کھڑی کرنی ہوتی ہے۔ مسجد اور اسٹور کے درمیان ایک سڑک بھی حائل ہے۔ گزشتہ رمضان کو جنرل اسٹور والے نے مسجد کی انتظامیہ کو 5 لاکھ روپے اس لیے دینے کی آفر کی تھی تاکہ مذکورہ مسجد کو شہید کرکے کسی دوسری جگہ مسجد بنالی جائے۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ صفیں مسجد سے باہر فٹ پاتھ پہ لگانی پڑجاتی ہے تو اسٹور والے وہاں اپنی گاڑی کھڑی کرنے کے لیے صفیں اٹھا کر پھینک دیتے ہیں، اور اپنی گاڑی کھڑی کر دیتے ہیں۔ پھر نمازی حضرات باہر جیسے بھی جہاں بھی جگہ ملتی ہے، صفیں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں، اور صفوں کا اتصال باقی نہیں رہتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
· واضح رہے کہ مسجدِ شرعی کے قیام کے لیے جگہ کا وقف ہونا ضروری ہے، تاکہ مسجد تعمیر ہو جانے کے بعد کسی کو ذاتی تصرف کا حق حاصل نہ ہو۔
· اور اگر کسی کی مملوکہ زمین پر مسجد تعمیر کی جا رہی ہو، تو مالکِ زمین سے صریح اجازت لینا ضروری ہے۔ اگر مالکِ زمین مسجد بنانے کی اجازت نہ دے تو شرعاً وہاں مسجد بنانا درست نہیں ہے۔
· جو زمینیں ملکیتِ عامہ کی نوعیت رکھتی ہوں، یعنی کسی کی انفرادی ملکیت میں یا کسی خاص مقصد کے لیے وقف شدہ نہ ہوں، نیز وہ عوامی مفاد کی جگہ نہ ہوں، مثلا: شارعِ عام، فُٹ پاتھ، چوراہا، پارک، ہسپتال وغیرہ، وہاں اگر علاقے کے مسلمان دینی ضرورت کے تحت مسجد تعمیر کر لیں تو یہ درست ہے، اور اسے بھی شرعی مسجد کا درجہ حاصل ہوگا اور وہ تمام احکام اس پر جاری ہوں گے جو ایک مسجد پر ہوتے ہیں۔
· عوامی مفاد کی جگہوں پر متعقلہ ادارے کی اجازت کے بغیر مسجد بنانے سے شرعاً اُس جگہ کی حیثیت مُصلّٰی (عبادت گاہ) کی ہوتی ہے، اُس پر مسجد شرعی کے احکام جاری نہیں ہوتے۔
· اگر حکومت نے اپنی کسی اسکیم میں کوئی جگہ مسجد کے لیے مختص کر رکھی ہے، تو بھی مسجد تعمیر کرنے کے لے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔
· اگر کسی سرکاری جگہ پر حکومت کی اجازت کے بغیر عرصۂ دراز سے نماز باجماعت کا سلسلہ جاری ہو، اور سرکاری افسران نے اُس پر اعتراض نہ کیا ہو، تو اُس کے باوجود قانونی طور پر حکومتی اجازت ملنے تک وہ مسجد شرعی نہیں بنے گی، یعنی افسران کی رضامندی یا خاموشی کو سرکاری اجازت شمار نہیں کیا جا سکتا۔
· جس جگہ پر قانون کے مطابق کوئی بھی عمارت بنانا، ناجائز ہو، وہاں مسجد بنانا بھی ناجائز ہے۔
· سرکاری زمین پر حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد بنانے سے زمین بدستور حکومت کی ملکیت رہتی ہے، اور حکومت کو اس میں تصرف کرنے کا اختیار باقی رہتا ہے۔
· اگر کسی کی مملوکہ زمین پر مالک کی اجازت کے بغیر مسجد تعمیر کرلی جائے تو وہاں نماز پڑھنے سے فرض تو ساقط ہوجائے گا، لیکن اللہ کے ہاں اس کے اجر وثواب کی امید نہیں کی جاسکتی۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ مسجد کی حیثیت مُصلّٰی کی ہے، اس کو شرعی مسجد نہیں کہا جا سکتا، البتہ وہاں پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کی نماز کی جماعت کرانا درست ہے۔ تاہم باضابطہ طور پر حکومت کے متعلقہ ادارے سے اجازت حاصل کرلی جائے، تاکہ اُس پر مسجد شرعی کے احکام جاری ہو سکیں۔ اگر حکومت کا متعلقہ ادارہ فُٹ پاتھ کی جگہ کو مسجد کے نام پر الاٹ کر دے تو وہ جگہ شرعاً اور قانوناً مسجد بن جائے گی، اس کے بعد قیامت تک کسی کے لیے بھی اُس جگہ کو مسجد کے علاوہ دوسرے استعمال میں لانا جائز نہ ہوگا۔
نیز جب تک مسجد کی انتظامیہ حکومت سے زمین مسجد کے نام پر رجسٹرڈ نہیں کرائے گی، اُس جگہ کی حیثیت مُصلّٰی (عبادت گاہ) کی ہوگی، یعنی اُس جگہ پر قیامت تک کے لیے مسجد کا حکم نہیں لگے گا، تاہم عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے اُس کا ادب کرنا سب پر لازم ہے، اس لیے کسی بھی شخص کو شرعاً یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اُس کی ادنیٰ توہین کا بھی سبب بنے اور نمازیوں کی عبادتوں میں خلل کا باعث بنے۔ سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق جنرل اسٹور والے کا اپنی دکان کے سامنے مُصلّٰی کی توہین صرف اس لیے کرنا کہ وہ سرکاری جگہ پر بنائی گئی ہے، درست نہیں ہے۔ نیز اگر بازار کے لوگوں کے لیے جماعت کی نماز میں جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے مُصلّٰی سے باہر فُٹ پاتھ پر نمازیوں کے لیے صفیں بچھائی جاتی ہیں، تو اُن کو اُٹھا کر پھینک دینا، اور وہاں اپنی گاڑی کھڑی کر دینا سنگین جرم ہے، اس عمل کی وجہ سے نمازیوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نمازیوں کی صفوں کا اتصال جو امام کی اقتداء درست ہونے کے لیے ضروری ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جنرل اسٹور والے کو اپنے اس عمل سے باز رہنا چاہیے۔ نیز اگر سرکاری جگہ ہونے کی وجہ سے مُصلّٰی بننے پر اعتراض ہے تو جنرل اسٹور والے کے لیے اُس جگہ گاڑی کھڑی کرنا بھی حکومت کی اجازت کے بغیر درست نہیں ہے؛ کیونکہ فُٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کی سہولت کے لیے بنایا جاتا ہے، وہ پارکنگ ایریا نہیں ہوتا۔
حوالہ جات
البحر الرائق (269/5):
"وفي الحاوي القدسي: ومن بنى مسجدا في أرض مملوكة له إلى آخره، فأفاد أن من شرطه ملك الأرض، ولذا قال في الخانية: ولو أن سلطانا أذن لقوم أن يجعلوا أرضا من أراضي البلدة حوانيت موقوفة على المسجد أو أمرهم أن يزيدوا في مسجدهم، قالوا: إن كانت البلدة فتحت عنوة، وذلك لا يضر بالمارة والناس، ينفذ أمر السلطان فيها، وإن كانت البلدة فتحت صلحا، لا ينفذ أمر السلطان؛ لأن في الأول تصير ملكا للغانمين فجاز أمر السلطان فيها، وفي الثاني تبقى على ملك ملاكها، فلا ينفذ أمره فيها."
فتاوى قاضيخان (31/1):
"مسجد بني على سور المدينة قالوا: لا يصلى فيه؛ لأن السور حق العامة. وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كانت البلدة فتحت عنوة، وبنوا مسجد بإذن الإمام، جازت فيه الصلاة؛ لأن للإمام أن يجعل الطريق مسجداً.
وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ذكر الناطفي - رحمه الله تعالى - في الواقعات: إذا بني في أرض الخصب مسجد أو حمام أو حانوت، لا بأس بالصلاة في المسجد، ولا يستأجر الحانوت والحمام ويدخل الحانوت لشراء المتاع.
أما لصلاة في أرض الغير إن كان لذمي تكره؛ لأنه يأبى ذلك ويتضرر به، وإن كانت لمسلم، فإن لم تكن مزروعة ولا مكروبة فلا بأس به؛ لأن صاحبها لا يتضرر به، وإن كانت مزروعة أو مكروبة، فإن كان بينهما صداقة ومودة وكان صاحبها حسن الخلق يرضى بذلك، لا بأس به إذا كان لمنزل الرجل."
الفتاوى البزازية (38/1):
"[المصلى] الذي على قوارع الطريق والحياض في حكم المسجد، لكن لا يعتكف فيه."
الجامع الصغير (ص:121):
"ويكره غلق باب المسجد."
النافع الكبير (ص:120):
"قوله: ويكره؛ لأنه مصلى للناس، فلا يصح منعه عن الناس، لقوله تعالى: ﵟوَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚﵞ.
المبسوط للسرخسي (62/2):
"قال: "ومن صلى الجمعة في الطاقات أو في السدة أو في دار الصيارفة أجزأه إذا كانت الصفوف متصلة" لأن اتصال الصفوف يجعل هذا الموضع في حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
08/ذو القعدۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


