03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طبی ضرورت کی بنا پر عورت کا دودھ استعمال کرنا
80330جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

طبی ضرورت کی وجہ سے کسی عورت کا دودھ استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ کسی پمپ وغیرہ سے نکال کر دے دے تو کیا اسے پی سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان اور اس کے تمام اعضاء اور اجزاء قابل عزت و احترام ہیں اور ان سے بلاضرورت فائدہ اٹھانا ناجائز اور حرام ہے۔ عورت کا دودھ بھی اس کے بدن کا جزء ہے اور اس کا استعمال جائز نہیں، البتہ حرام اشیاء سے علاج کرنے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اس حرام چیز سے علا ج تجویز کرنے والا کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر ہو اور اس بات کا یقین بھی ہو کہ اس بیماری کا علاج کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ہے۔

          لہذا ذکر کردہ تفصیل کے ساتھ عورت کا دودھ نکال کر بطور دوا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (1/ 210)

مطلب في التداوي بالمحرم  قوله ( اختلف في التداوي بالمحرم ) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة.

رد المحتار (2/ 116)

اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر ، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي : وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى.

الفتاوى الهندية (5/ 355)

ولا بأس بأن يسعط الرجل بلبن المرأة ويشربه للدواء

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۱۵/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب