03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنوبی وزیرستان کے علاقے “کَڑَمہ” میں نمازِ جمعہ کا حکم
80364نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

جنوبی وزیرستان کے گاؤں "کڑمہ" میں تقریبا ایک سو پندرہ سال سے علمائے کرام کے مشورہ سے جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ تقریبا 20 سال پہلے چند آدمیوں نے کہا کہ یہاں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز نہیں تو گاؤں والوں نے وزیرستان کے علمائے کرام کو جمع کیا۔ تمام علمائے کرام نے متفق ہو کر کہا کہ جمعہ کی نماز یہاں ہوگی اور یہاں سے دوسری جگہ تبدیل نہیں ہوگی۔

 "کڑمہ" گاؤں کی کل آبادی تقریبا ایک ہزار (1,000) سے کچھ زیادہ ہے، وہاں گورنمنٹ اسکول بھی ہے، تھانہ بھی ہے، بتیس (32) دکانیں ہیں، تین (3) ہوٹل ہیں۔

"کڑمہ" کے شمال کی طرف تین (3) گاؤں ہیں، ملک دبنائی، مالک میلہ، سپینا میلہ۔ جنوب کی طرف چھ (6) گاؤں ہیں، کچکائی، لنڈے کڑمہ، شمیرائی، کجرائی، تاغیکائی اور مامیت خیل۔ مشرق کی طرف دو (2) گاؤں ہیں، خادے اور جونڈ خیل۔

 "کڑمہ" کے تینوں اطراف کے لوگ اپنے گھریلو ساز و سامان اور کھانے پینے کے لیے پیدل آکر "کڑمہ" کی مارکیٹوں اور دکانوں سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ "کڑمہ" کے تین حصے لوگ سردی کے موسم یعنی اکتوبر سے گرم علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی وغیرہ چلے جاتے ہیں اور موسمِ بہار یعنی یکم مئی سے واپس وزیرستان آجاتے ہیں۔

اب چند آدمیوں نے یہ بات اٹھائی ہے کہ "کڑمہ" میں لوگ کم ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز جائز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ "کڑمہ" میں جمعہ کی نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو ہمیشہ کے لیے بند کردی جائے یا گرمی کے موسم میں پڑھی جائے اور سردی کے موسم میں نہ پڑھی جائے؟

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ "کڑمہ" کی اصل آبادی مرد، خواتین اور بچے تقریبا پانچ (5) ہزار یا اس سے زیادہ تھی، لیکن آپریشن کی وجہ سے بہت سارے لوگ کراچی اور دیگر شہروں میں چلے گئے ہیں۔ ابھی کچھ لوگ جن کی استطاعت ہے وہ اپنے گھر دوبارہ بنا رہے ہیں، باقی دوسرے شہروں میں مقیم ہیں۔ سوال میں مذکور ایک ہزار آبادی سے مراد مرد نمازی ہیں ورنہ مرد، عورتیں اور بچے سب تقریبا پندرہ سو (1,500) سے زائد ہوں گے۔ "کڑمہ" کی 32 دکانیں متصل اور دو رویہ ہیں، ان میں راشن، سبزی، دودھ، گوشت، کپڑوں، جوتوں اور دیگر ضروریات سب کی دکانیں ہیں، گاڑیوں کے پنکچر کی دکان بھی ہے، تین پرائیوٹ ڈاکٹرز کے کلینک ہیں، جبکہ ایک سرکاری ڈاکٹر روزانہ آتے ہیں۔ ان بتیس (32) دکانوں میں سے چند دکانیں آپریشن کے بعد بند ہیں، باقی سب چل رہی ہیں۔ آپریشن سے پہلے یہاں کمزور سا سرکاری ہسپتال تھا، آپریشن میں وہ ختم ہوگیا۔ یہاں مدرسہ بھی ہے۔ کرکٹ کا گراؤنڈ بھی ہے جس میں ہر سال یکم اگست سے پندرہ اگست تک ٹورنامنٹ ہوتا ہے، پورے وزیرستان کی ٹیمیں وہاں آکر کھیلتی ہیں، بعض دفعہ پاکستان کے بعض قومی کھلاڑی بھی آجاتے ہیں۔

"کڑمہ" کے تینوں اطراف کے گاؤں اپنی حدود رکھتے ہیں، لیکن وہ لوگ باہر مثلا کراچی میں اپنا تعارف "کڑمہ" سے کرتے ہیں یعنی اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ کہاں رہتے ہیں تو وہ "کڑمہ" کا نام بتاتے ہیں؛ کیونکہ وہ مشہور جگہ ہے اور ان کی ضروریات بھی وہاں سے پوری ہوتی ہیں۔ "کڑمہ" اور اطراف کے گاؤوں کے درمیان مختلف فاصلے ہیں، بعض قریب ہیں، بعض ایک ڈیڑھ کلو میٹر فاصلے پر ہیں۔ حکومت نے "کڑمہ" کو مذکورہ گیارہ گاؤں اور کچھ دور واقع آٹھ مزید گاؤں کے لیے ہیڈ کوارٹر بنایا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ حضراتِ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی جگہ نمازِ جمعہ کے جواز کے لیے اس جگہ کامصر، فناءِمصر یا قریۂ کبیرہ یعنی قصبہ ہوناضروری ہے۔ ان تینوں کی تعریفات درجِ ذیل ہیں:-

(1)۔۔۔ "مصر" کی تعریف حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے یہ مروی ہے:

"مصر" ایسا بڑا شہر ہوتا ہے جس میں مختلف گاؤں، محلے اور بازار ہوں، اور اس میں ایسا والی ہو جو علم وقوت کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلانے پر قادر ہو اور لوگ پیش آمدہ  حادثات  ومسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے ہوں۔  (تحفۃ الفقهاء:1/ 162)

(2)۔۔۔ "فناءِشہر" سے مراد شہر سے متصل وہ جگہ ہے جس سےشہروالوں کی ضروریات وابستہ ہوں۔

(3)۔۔۔ "قصبہ" کی تعریف علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے:

 "جہاں چار ہزارکےقریب یا اس سےزیادہ آبادی ہو،ایسا بازار موجودہو جس میں دُکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتاہو، اور بازار میں ضروریات روز مرّہ کی ملتی ہوں، مثلاً: جوتہ کی دُکان بھی ہو، اور کپڑےکی بھی،عطّارکی بھی ہو بزاز کی بھی،غلّہ کی بھی اور دودھ گھی کی بھی، اور وہاں ڈاکٹر یاحکیم بھی ہوں، معمار و مستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کاتھانہ یاچوکی بھی ہو۔اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سےموسوم ہوں۔ پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (امدادالاحکام :1/ 756)

در اصل قصبہ کی تعریف عرف پر مبنی ہے، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس میں آبادی کی کوئی متعین مقدار مقرر نہیں فرمائی، بلکہ بطورِ مثال ایک تعداد بیان فرمالیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معتد بہ آبادی ہو اور اس جگہ کی مجموعی ہیئت ایسی ہو کہ اسے بڑا گاؤں کہا جاسکے۔ چنانچہ بعض فتاوی میں دو ڈھائی ہزار کی آبادی کو بھی اپنی مجموعی ہیئت اور ضروریاتِ دستیاب ہونے کی صورت میں قصبہ قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ رحیمیہ: 6/101۔ فتاویٰ دار العلوم دیوبند:5/57۔54۔55۔41۔ خیر الفتاویٰ: 3/41)

اصل سوال کا جواب

سوال اور اس کی وضاحت میں آپریشن سے پہلے "کَڑَمہ" کی جو حالت ذکر کی گئی ہے، اس کی روشنی میں "کڑمہ" اس وقت بلاشبہہ قصبۂ کبیرہ تھا اور اس میں جمعہ جائز تھا۔ آپریشن کے بعد جب نقل مکانی کی وجہ سے آبادی کم ہو کر تقریبا پندرہ سو (1,500) رہ گئی اور موسمِ سرما میں مزید کم ہو کر تین ساڑھے تین سو رہ جاتی ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ قصبہ اور قریۂ کبیرہ نہیں رہا، اس لیے یہاں جمعہ جائز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف فقہائے کرام نے قصبہ اور قریۂ کبیرہ کے لیے آبادی کی کوئی خاص مقدار طے نہیں فرمائی، بلکہ اس کا مدار عرف پر رکھا ہے، جیسا کہ یہ بات اوپر گزرچکی۔ اور سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق "کڑمہ" میں تقریبا تمام بنیادی ضروریات کی دکانیں موجود ہیں، پولیس کا تھانہ، مدرسہ، گورنمنٹ ہائی اسکول اور کھیل کا میدان بھی ہے۔ وہ آس پاس کے گاؤں کے لیے ہیڈ کوارٹر اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ جو لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں، ان میں سے بھی استطاعت رکھنے والے افراد اپنے گھر وہاں دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں۔ اس پہلو کا تقاضا یہ ہے کہ "کڑمہ" کو بحالتِ موجودہ بھی قصبہ اور قریۂ کبیرہ مانا جائے اور اس میں نمازِ جمعہ جائز ہو، بالخصوص جبکہ وہاں قدیم زمانے سے نمازِ جمعہ ہوتی ہے۔ اگر وہاں پر جمعہ کو جائز قرار دیا جائے تو پھر اس میں سردی کے موسم میں دو تہائی افراد کے عارضی طور پر دوسرے شہروں میں جانے سے فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ان کے گھر اور ساز و سامان سب کچھ وہاں موجود ہو۔  

سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارا رجحان "کڑمہ" میں نمازِ جمعہ جائز ہونے کی طرف ہے۔ تاہم چونکہ ہم نے یہ علاقہ خود نہیں دیکھا؛ اس لیے حتمی فیصلے کے لیے اس علاقے یا اس کے قریب علاقے کے مستند مفتیانِ کرام کو بلا کر انہیں اس گاؤں کا مشاہدہ کرائیں اور یہ فتویٰ دکھائیں، پھر وہ شریعت کے مطابق جو فیصلہ کریں، اس پر اہلِ علاقہ متفقہ طور پر عمل کریں۔ اگر علاقے کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہاں کے مستند مفتیانِ کرام کی رائے یہ ہو کہ "کڑمہ" میں جوازِ جمعہ کی شرائط موجود نہیں ہیں اور جمعہ کی نماز بند کرنے میں فتنہ فساد کا اندیشہ ہو تو اس علاقے کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ سے جمعہ قائم کرنے کی اجازت لی جائے۔ اگر وہ جمعہ کی نماز کی اجازت دیدے تو اس صورت میں وہاں نمازِ جمعہ بلاشبہہ جائز ہوگی؛ لأن حکم الحاکم رافع للخلاف۔ البتہ اس صورت میں اگر اجازت دینے والے حاکم اور افسر اس علاقے سے منتقل (ٹرانسفر) ہو یا اس کا انتقال ہو اور نیا حاکم اور افسر وہاں آجائے تو پھر اس سے دوبارہ اجازت لینا ضروری ہوگا، کما فی امداد الفتاوی:1/496-495۔

حوالہ جات

إعلاء السنن (5/2247):

2015- عن علی رضی الله عنه أنه قال: "لا جمعة، ولا تشریق إلا فی مصر جامع". أخرجه أبو عبید بإسناد صحیح إلیه موقوفاً. ومعناه لا صلاة جمعة، ولا صلاة عید. کذا فی فتح الباری، ورواه عبدالرزاق فی مصنفه: أنبأ الثوری عن زبید الأیامی عن سعد بن عبیدة عن أبی عبد الرحمن السلمی عن علی قال: "لا تشریق، ولا جمعة إلا فی مصر جامع"، کذا فی نصب الرایة، وفی الدرایة: إسناده صحیح.

تحفة الفقهاء (1/ 162):

 وأما المصر الجامع فقد ذكرالكرخي ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام ، وقد تكلم فيه أصحابنا بأقوال: وروي عن أبي حنيفة هو بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره ويرجع الناس إليه فيما وقع لهم من الحوادث وهذا هو الأصح.

المبسوط للشيباني (1/ 360):

   قلت: أرأيت رجلا صلى بالناس يوم الجمعة ركعتين من غير أن يأمره الأمير؟ قال: لا يجزيهم، وعليهم أن يستقبلوا الظهر. قلت: فإن كان الأمير أمره بذلك أو كان خليفة الأمير أو صاحب شرطة أو القاضي؟ قال: تجزيهم صلاتهم.

الدر المختار (2/ 138):

 وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي، وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، فليحفظ.

رد المحتار (2/ 138):

قوله ( وفي القهستاني إلخ ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني: تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.   قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة؛ لأن هذا مجتهد فيه، فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه. وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات، والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة، ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم؛ فإن في فتاوى الديناري إذا بنى مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اه فافهم.   والرستاق القرى كما في القاموس.

النهر الفائق (1/ 355):

وعن الهندواني: قول الناس يصلي أربعًا بنية أقرب صلاة علي" ليس له أصل في الروايات، ولا شك في جواز الجمعة في البلاد والقصبات.

إعلاء السنن (5/2262):

فإن قیل: کیف قالت الحنفیة بجواز إقامة الجمعة في القری إذا کان علیها أمیر من الإمام مأذون بإقامة الجمعة بها؟ فهل تصیر القریة بذلك مصرا؟ وهذا خلاف المفروض؛ فإن المفروض أنها قریة، أو لم تصر مصرا، فکیف ترکوا هناك أثر علی المصرح بنفي الجمعة عن القریٰ؟

قلنا: تصیر القریة بذلك في حکم المصر؛ فإن القریة التي بها أمیر من الإمام تتبعها القری المتصلة بها التي لیس بها أمراء فیرجع أهلها إلی تلك القریة في حوادثها. ومثلها یکون مصرا حکما، کما لایخفی علی من شاهد حال القری التي بها أمیر من الإمام.

أو نقول: إن أمر الإمام وإذنه قاطع لنزاع في المسائل المجتهد فیها عندنا، واشتراط المصر للجمعة مجتهد فیه (بین) الصحابة والأئمة. فإذا أمر الإمام أمیرا علی القریة وأذن له بإقامة الجمعة بها صحت الجمعة بها عندنا؛ لأجل هذا الأصل.

رد المحتار (2/ 142):

    قوله ( إذن عام ) أي لكل خطيب أن يستنيب لا لكل شخص أن يخطب في أي مسجد أراد، ح.

أقول: لكن لا يبقى إلى اليوم الإذن بعد موت السلطان الآذن بذلك إلا إذا أذن به أيضا سلطان زماننا نصره الله تعالى، كما بينته في تنقيح الحامدية، وسنذكر في باب العيد عن شرح المنية ما يدل عليه أيضا، فتنبه.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      16/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب