| 80338 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
فاطمہ نامی لڑکی کا نکاح انگلينڈ كے ایک لڑکے کے ساتھ ہوا، بعض وجوہ کی بنیاد پر آپس میں شدید اختلافات ہو گئے تو لڑکے والوں نے درج ذیل تین شرائط رکھیں:
- فاطمہ کو پاکستان میں عاقب کے ماموں کے گھر کی بجائے والد کے گھر رہنا ہو گا، جو کہ پسماندہ ہے، جبکہ رشتہ دیتے وقت یہ طے ہوا تھا کہ ہم لڑکی کو پسماندہ گاؤں میں نہیں بھیجیں گے۔
- رخصتی کے بعد بھی ہم اس کو انگلینڈ نہیں بلائیں گے، جب تک یہ ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ جبکہ اس کا شوہر عاقب انگلینڈ میں ہے اور لڑکی پسماندہ گاؤں میں رہے گی، لڑکا وہاں سے آنا جانا کرتا رہے گا۔
- جب ہم اس کو انگلینڈ بلائیں گے تو بھی فاطمہ اپنے کسی رشتہ دار سے کوئی تعلق نہیں رکھے گی۔
ان شرائط کے بعد عاقب کی ماں کا حادثہ ہوا، تیمار داری کے سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو لڑکے والوں نے بےرخی کا مظاہرہ کیا، پھر فاطمہ کے والد نے اپنی دوسری بیٹی جو انگلینڈ میں ہی ہے اس کو تیمار داری کے لیے گھر بھیجا، دروازے پر دستک دی تو انہوں نے دروازہ نہیں کھولا اور عذر پیش کر دیا اور کہا کہ ہم دروازہ نہیں کھول سکتے، آپ کی عیادت قبول ہے آپ چلے جاؤ۔ اس پر فاطمہ کی بہن نے کہا آپ لوگوں کا ابھی یہ رویہ ہے تو آپ طلاق دے دو۔ ہم امام صاحب سے خلع کے کاغذات بنواتے ہیں،آپ دستخط کر دینا تو عاقب کی والدہ نے کہا ہم نہ طلاق دیں گے نہ خلع۔ یہ اسی طرح زندگی گزارے گی۔ اس میں عاقب کی رضامندی بھی شامل تھی، اس ماجرے کو دیکھ کر فاطمہ بھی دلبرداشتہ ہو گئی۔
اس کے بعد ہم نے عدالت سے رابطہ کیا تو جس میں ساری تفصیل ذکر کی گئی، عدالت نے لڑکے سے رابطہ کیا تو اس نےپہلے دو نوٹسز کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ تیسرے نوٹس کا یہ جواب دیا جو فیصلہ کے ساتھ منسلک ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدالتی فیصلہ معتبر ہے؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ لڑکے کی والدہ بھی طلاق یافتہ ہے، وہ لڑکی کو محض تنگ کرنا چاہتے ہیں، کئی ماہ لڑکی والوں کے رابطہ کرنے کے باوجود وہ بے رخی کا مظاہرہ کرتے تھے، یہاں تک کہ گھر جانے پر دروازہ بھی نہیں کھولتے تھے، اب لڑکے نے تیسرے نوٹس پر جو جواب دعوی جمع کروایا ہے وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ جس کا قرینہ سوال میں ذکر کی گئی تین شرائط ہیں۔ اب لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کرنا چاہتے ہیں، لہذا ازراہ کرم اس کا کوئی حل بتایے کہ اگر بالفرض یہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں تو اس نکاح کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ لڑکا نہ فون پر رابطے کرنے پر تیار ہے اور نہ ہی طلاق یا خلع دینے پر رضامند نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے ساتھ منسلکہ عدالتی فیصلہ کا مطالعہ کیا گیا، اس میں خاتون کی طرف سے دعوی کیا گیا ہے کہ مدعی علیہ کو بارہا بذریعہ جرگہ رخصتی کی تاریخ طے کرنے کی بابت پیغام بھجوایا ، لیکن مدعا علیہ جان بوجھ کر ٹال مٹول سے کام لیتا رہا ہے، جس سے بدیں وجہ صاف نظر آرہا ہے کہ مدعی علیہ کسی صورت مدعیہ کو آباد کرنے پر تیار نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف خاوند کی طرف سے اس کے وکیل نے جوجوابِ دعوی پیش کیا ہے اس میں اس نے خاتون کے دعوی میں ذکرکی گئی باتوں کا انکار کیا ہے اور اس میں یہ بھی لکھاہے کہ لڑکے نے کبھی رخصتی سے انکار نہیں کیا اور اب بھی وہ مدعیہ کو اپنے ہمراہ آباد کرنے پر تیار ہے۔ایسی صورت میں خاتون کو اپنے دعوی پر گواہ پیش کرنے چاہیے تھے، لیکن اس نے اپنے دعوی کو گواہوں سے ثابت نہیں کیا، بلکہ عدالت نے بغیر گواہوں کے صرف عورت کی بات پر اعتماد کرکے خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں بغیر گواہوں کے عدالت کا یک طرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، فسخِ نکاح کے طور پر اس لیےنہیں کہ عورت نے اپنے دعوی کو گواہوں سے ثابت نہیں کیا اور خلع کے طور پر اس لیے نہیں کہ خاوند کی طرف سے اس پر رضامندی نہیں ہے، جبکہ خلع کے درست ہونے کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے۔
لہذا مذکورہ فیصلہ کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم نہیں ہوا، البتہ اگر سوال میں ذکر کی گئی یہ بات درست ہے کہ لڑکا جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اور وہ رخصتی کی بجائےمحض لڑکی کو تنگ کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ سوال میں ذکر کی گئی شرائط سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں اولاً تو لڑکے کو طلاق یا کچھ مال دے کرخلع دینے پر رضامند کیا جائے اور اگر بالفرض وہ اس پر تیار نہ ہو تو اس صورت میں جماعت المسلین کے ذریعہ فیصلہ کروا لیا جائے، جس کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنےعلاقے کے چار پانچ نیک اور صالح آدمیوں (یہ مسئلہ چونکہ مالکی مسلک سے لیا گیا ہے،لہذا مالکی مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس جماعت کے تمام اراکین کا صالح ہونا ضروری ہے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک شرعی فیصلہ کے لیے قاضی کا صالح ہونا شرط ہے، لہذا فاسق جیسے ڈاڑھی منڈوانے والا اور دیگر کبائر کا مرتکب شخص اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا کذا فی الحیلة الناجزة:صفحہ:39) کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، خاتون ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کردے کہ یہ شوہر نکاح کے بعد اپنے گھر رخصتی کروانے پر تیار نہیں، بلکہ خود کینیڈا رہنے اور خاتون کو پاکستان کے ایک پسماندہ گاؤں میں رکھنے پر بضد ہے اور یہ بات شوہر کے متعنت (عورت کو لٹکا کر رکھنے والا) ہونے کے لیے کافی ہے، یہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کا تین مرتبہ نوٹس بھیجیں، اگر وہ حاضر نہ ہوتو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت اس گواہی کی بنیاد پر اتفاقِ رائے سے عورت کو ایک طلاق دے دے اور یہ طلاقِ بائن شمار ہوگی، کیونکہ عورت کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی میاں بیوی کو علیحدگی میں ملنے کا موقع ملا ہے، اس لیے اس طلاق سے فوراً نکاح ختم ہو جائے گا اور عورت بغیر عدت گزارے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ غیرمدخول بہا (جس سے ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ نہ کی گئی ہو) عورت پر شرعاً عدت واجب نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:181):
طريق تطليق زوجة المفقود أو الغائب الذي تعذر الإرسال أو أرسل إليه، فتعاند، إن كان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت لشاهدين أن فلانا زوجها وغائب عنها، ولم يترك لها نفقة، ولا وكيلا بها، ولا أسقطتهاعنه، وتحلف على ذلك، فيقول الحاكم فسخت نكاحه أو طلقت منه۔
"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:
"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".
حاشية العدوي على كفاية الطالب الرباني (2/ 133) دار الفكر – بيروت:
وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك، وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل وأما من لم يثبت عسره وهو مقر بالملاء وامتنع من الإنفاق، والطلاق، فإنه يعجل عليه الطلاق على قول ويسجن حتى ينفق عليها على آخر فإن سجن ولم يفعل فإنه يعجل عليه الطلاق.
الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (3/ 71) دار الفكر، بيروت:
والعدول يقومون مقام الحاكم عند تعذره إما لعدم أمانته أو لعدم اعتنائه بالأمور، فإن غاب أحد المتبايعين رفع الآخر الأمر للحاكم أو للعدول وفسخه.
الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 254) :
وإذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة على التفصيل السابق ، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها بسبب ذلك ، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما. وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك ، بل تستدين عليه ، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


