| 80365 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
ہمارا تعلق ایک دواساز کمپنی سے ہے اور ہم ایک ایسی دوا بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو معدہ کے ایک مرض (EPI) Exocrine Pancreatic Insufficiency میں مبتلا مریضوں کو کھانا ہضم کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ اس مرض کے علاج کےلیےPERT (Pancreatic Enzymes Replacement Therapy) کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے اور مریض کو Pancreatic Enzymes دیے جاتے ہیں جو معدہ کا نظامِ ہضم درست رکھتے ہیں۔ اگر اس مرض کا علاج نہ کیا جائے تو کمزوری بڑھتی جاتی ہے اور مریض موت کےمنہ میں چلاجاتا ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ PERT (Pancreatic Enzymes Replacement Therapy ) میں جو Pancreatic Enzymes دیے جاتے ہیں وہ عام طور پر دنیا بھر میں 95 فیصد خنزیر کے لبلبہ (pancreas) /Tissues سے کشید کیے جاتے ہیں اور یہی اس کا سب سے مناسب Feasible ماخذ ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق فرانس میں نباتاتی (Plant-based & Microbe-derived) enzymes سے بھی اسے اخذ کیا جاتا ہے ، لیکن یہ انتہائی مہنگا ہے اور Feasible نہیں ۔ نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ Pancreatic Enzymes میں خنزیر کے لبلبے سے کشید کرنے کے دوران بہت سارے پراسس اور مراحل ہیں جن سے گزرتے گزرتے تبدیلِ ماہیت عین ممکن ہے۔ (پراسس کا فلو چارٹ بھی منسلک کیا جارہا ہے۔)
ہماری رہنمائی فرمائیں کہ Pancreatic Enzymesکی خنزیر کے لبلبہ (pancreas) /Tissues سے دوا ئی بنانا اور پھر اسے فروخت کرنا ہمارے لیے درست ہوگا؟
وضاحت: مستفتی (ڈاکٹر مدثر صاحب) سے فون پر خنزیر کے لبلبے سے بننے والی دوا اور نباتات سے بننے والی دوا کی قیمت میں فرق کے حوالے سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تقریبا دو گنا سے زیادہ فرق ہوتا ہے، بطورِ مثال نباتات سے بننے والی دوا کا ایک پیکیٹ جس میں بیس گولیاں ہوتی ہیں تین ہزار کا ملے گا تو خنزیر کے لبلبے سے بننے والی دوا کا ایک پیکٹ سات سو، آٹھ سو یعنی ہزار کے اندر اندر مل جائے گا۔ پاکستان میں ابھی تک یہ دوا نہیں بن رہی، ڈاکٹرز اس مرض کے علاج کے لیے اور مختلف دوائیں دیتے ہیں جو وقتی اثر تو کرلیتی ہیں، لیکن مرض کو مستقل ختم نہیں کرتیں؛ کیونکہ مرض کی اصل وجہ یعنی Enzymes کا کام نہ کرنا جب تک ختم نہیں ہوگا، اس وقت تک صحیح علاج ممکن نہیں۔
اس مرض کی شدت کے حوالے سے بھی ڈاکٹر صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کینسر، ہارٹ اٹیک یا دیگر ان امراض کی طرح تو نہیں ہے جن میں غالب انسان کا مرجانا ہوتا ہے، لیکن اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ مرض بڑھتے بڑھتے موت کا سبب بن جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے ساتھ منسلکہ پراسس فلو چارٹ کا بغور مطالعہ کیا گیا، اس چارٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے خنزیر کے لبلبے کو لیا جاتا ہے، اسے کاٹا اور پیسا جاتا ہے یعنی اس کا قیمہ بنایا جاتا ہے، پھر اس میں کیمیکل ڈالا جاتا ہے جس سے چربی وغیرہ الگ ہوجاتی ہے اور اس کا پانی نما محلول الگ ہوجاتا ہے، یہی پانی اصل مقصود ہوتا ہے، چنانچہ اس پانی نما محلول کو ایک عمل (پراسس) سے گزارا جاتا ہے جس میں ایک خاص دباؤ کے تحت وہ پانی نما محلول پاؤڈر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ (پراسس فلو چارٹ کا یہ خلاصہ مستفتی یعنی ڈاکٹر مدثر صاحب کو فون پر بتایا، انہوں نے بھی اس کی تصویب فرمائی)۔
یہ طریقۂ کار استحالہ یعنی انقلابِ ماہیت کے لیے کافی نہیں، اس سے خنزیر کے لبلبے سے نکلنے والے پانی کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، صرف اس کی شکل بدل جاتی ہے یعنی مائع سے جامد بن جاتی ہے۔ پہلے وہ پانی نما محلول گوشت کے اندر موجود تھا، پھر اس کو گوشت سے الگ کیا گیا اور پھر سیال شکل سے پاؤڈر کی شکل میں تبدیل کیا گیا۔
لہٰذا ماہیت تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے اس پر خنزیر ہی کا حکم جاری ہوگا اور بطورِ دوا اس کا استعمال صرف اس صورت میں جائز ہوگا جس صورت میں تداوی بالمحرم یعنی حرام چیز سے علاج جائز ہو۔ تداوی بالمحرم اس وقت جائز ہے جب کوئی متبادل دوا دستیاب نہ ہو، کوئی اور علاج ممکن نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں خنزیر کے لبلبے سے بنائی جانے والی دوا کے دو متبادل موجود ہیں، ایک عام دوائیں جو سوال کے مطابق اب تک ڈاکٹرز دے رہے ہیں، البتہ اس سے مرض مکمل ختم نہیں ہوتا، جبکہ دوسرا متبادل جڑی بوٹیوں سے بنائی گئی دوا ہے جو مرض کو جڑ سے ختم کردیتی ہے۔ جڑی بوٹیوں سے بنائی جانے والی دوا خنزیر کے لبلبے سے بنائی جانے والی دوا سے مہنگی ہے، لیکن اتنی مہنگی نہیں جس کی وجہ سے حرام چیز سے علاج جائز ہو۔ نیز یہ بیماری ایسی نہیں جس سے موت کا غالب گمان ہو؛ اس لیے خنزیر کے لبلبے سے دوا بنانا، فروخت کرنا اور اس کو استعمال کرنا جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ } الآیة [الأنعام: 145]
صحيح البخاري (2/ 840):
باب شراب الحلواء والعسل: وقال الزهري لا يحل شرب بول الناس لشدة تنزل؛ لأنه رجس، قال الله تعالى { أحل لكم الطيبات }. و قال ابن مسعود في السكر: إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم.
بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/341):
13- الخمائر والجلاتین المتخذة من الخنزیر:
إن کان العنصر المستخلص من الخنزیر تستحیل ماهیته بعملیة کیمیاویة بحیث تنقلب حقیقته تمامًا، زالت حرمته ونجاسته. وإن لم تنقلب حقیقته بقي علی حرمته ونجاسته؛ لأن انقلاب الحقیقة مؤثر في زوال النجاسة والحرمة عند الحنفیة.
فقه البیوع (1/307-306):
أما الجلاتین المتخذ من جلود الأنعام غیر المذبوحة فقد ذهب بعض المعاصرین إلی أنه حلال؛ لأن قطعات الجلود تمر بعمل کیمیاوي تنقلب به ماهیتها، فتحل وتطهر بالاستحالة علی قول الحنفیة.
وإني شاهدت هذه العملیة بنفسي في بعض المصانع، فلم یتضح لي أن هذه العملیة تکفي للاستحالة. لا شك أنه تحدث فیه بعض التغیرات الکیمیاویة، ولکن لیست جمیع التغیرات الکیمیاویة تؤدي إلی انقلاب الماهیة أوالاستحالة، بدلیل أن التغیرات الکیمیاویة تحدث في طبخ اللحم أیضًا، ولکن لایقال إن اللحم تنقلب ماهیته بالطبخ، وإلا جاز أکل جمیع المحرمات بعد الطبخ. وذکر لي ذوو الاختصاص في هذا الفن أن العملیة التي تجری علی الجلود في صناعة الجیلاتین لاتحدث فیها استحالة، وإنما هو عمل یقع فیه تنظیف الجلود وقلبها إلی مادة سائلة. ومجرد تسییل الجامدات لیس قلبًا لماهیتها، کما هو ظاهر. ولذلك لم تتبین لي استحالتها حتی الآن.
ولکن ما تبین لي بوضوح بعد مشاهدۃ العملیة ومراجعة ذوي الاختصاص أن هذه العملیة یحصل بها ما هو المقصود من دباغة الجلود. قال صاحب الهدایة: "ثم ما یمنع النتن والفساد فهو دباغ." وقد ذکر البابرتي رحمه الله تعالی في تعریف الدباغ عن کتاب الآثار لمحمد عن أبي حنیفة عن حماد عن إبراهیم قال: "کل شیئ یمنع الجلد من الفساد.". وإن العملیة التي تجري علی الجلود تستعمل فیيا النورة (Lime) والکلائي (Alkalai) لتنظیفها وتخلیتها من الرطوبات والجراثیم، مما یمنعها من الفساد، کما صرح به ذوو الاختصاص. وهناك بحث فني لأحد أصحابي الشیخ سرفراز محمد البریطانوي حفظه الله تعالی الذي هو متخصص في الفقه مع اختصاصه في علم الکیمیاء، وصل فیه إلی أن هذه العملیة دباغ حقیقي للجلود، ولکن لاتحدث بها الاستحالة.
وبما أن عظم حیوان غیر مذکی طاهر وأن جلده یطهر بالدباغ، فإن الجیلاتین المتخذ منهما طاهر، ویجوز استعماله في غیر الأکل باتفاق الحنفیة. أما استعماله في الأکل فالصحیح المفتی به عند الحنفیة أنه لایجوز، ولکن هناك قول عند الحنفیة والشافعیة في جواز أکله، ویسوغ العمل به للتداوي بالکیبسولات المتخذة من الجیلاتین بشرط أن لاتکون متخذة من جلد الخنزیر أوعظمه. أما في غیر التداوي فینبغي الاجتناب من أکله ما لم تثبت استحالتها. أما البیع والشراؤ فیجوز في غیر المتخذ من الخنزیر؛ لأنه طاهر حسب ما ذکرناه، والانتفاع به ممکن بطریق مشروع. والله سبحانه وتعالیٰ أعلم.
تکملة فتح الملهم (2/263):
أکثر مشایخ الحنفیة أفتوا بجواز التداوي بالحرام إذا أخبر طبیب حاذق بأن المریض لیس له دواء آخر، فقد قال ابن نجیم رحمه الله في البحر الرائق (1/116):
"وقد وقع الاختلاف بین مشایخنا في التداوي بالمحرم، ففي النهایة عن الذخیرة "الاستشفاء بالحرام یجوز إذا علم أن فیه شفاء و لم یعلم دواء آخر اھ"، وفي فتاوی قاضي خان معزیا إلی نصر بن سلام معنی قوله صلی الله علیه وسلم "إن الله لم یجعل شفاءکم في ما حرم علیکم" إنما قال ذلك في الأشیاء التي لایکون فيها شفاء، فأما إذا کان فیها شفاء فلا بأس به، ألا تری أن العطشان یحل له شرب الخمر لضرورة. اھ، وکذا اختار صاحب الهدایة في التجنیس فقال: إذا سال الدم من أنف إنسان یکتب فاتحة الکتاب بالدم علی جبهته وأنفه یجوز ذلك للاستشفاء والمعالجة، ولو کتب بالبول إن علم أن فیه شفاء لا بأس بذلك، لکنه لم ینقل. وهذا لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء، ألا تری أن العطشان یجوز له شرب الخمر والجائع یحل له أکل المیتة. اھ".
وحاصل ما ذکره أن مشایخ الحنفیة أفتوا بقول أبي یوسف رحمه الله في جواز التداوي في ما إذا لم یعلم الطبیب له دواء آخر…….. الخ
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/ ذو القعدۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


