| 80348 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے دو گواہوں کی موجودگی میں (جو لڑکا لڑکی کسی کے خاندان یا جاننے والوں میں سے نا تھے) ایک عورت سے نکاح کیا جس کی کوئی کاغذی کارروائی نہیں کی گئی اور صرف جسمانی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے چھپ کر یہ نکاح کیا گیا لڑکا چھپ کے آتا رہا اور کسی قسم کی ذمہ داری نان نفقہ یا بچوں کی پیدائش کا حق نہیں دیا گیا بلکہ حمل ضائع کروایا۔۔۔کیا اس نکاح کی شرعی کوئ حیثیت ہے؟ کیا اس نکاح میں تین بار طلاق ہو جانے کی صورت میں اور وہ دونوں توبہ استغفار کے ساتھ پھر سے خاندان بنانے اور ہر ذمہ داری پورا کرنے کی غرض سے خاندان والوں کے سامنے اعلانیہ نکاح کر سکتے ہیں؟ کیا اس میں حلالہ کی شرط ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دوعاقل بالغ مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے سے نکاح ہوجاتاہے،اس لئے صورت مسؤلہ میں اگرگواہوں کی موجودگی میں یہ نکاح ہواتھاتو شرعایہ نکاح ہوچکاہے، یہ الگ بات ہے چھپ کرنکاح کرنا اسلامی اورہماری معاشرتی اقدارکے خلاف اوربہت براعمل ہے،خاص طورپرجب نکاح کامقصدصرف جنسی خواہشات کی تکمیل ہو تویہ عمل اوربراہوجاتاہے،نکاح اوررخصتی کے بعد بیوی کانان ونفقہ شوہرکے ذمہ لازم ہوتاہے، اس لئے صورت مسؤلہ میں شوہر پرلازم ہے کہ بیوی کانان ونفقہ برداشت کرے،نیز خاندان والوں کے سامنے نکاح کی تجدیدکرلی جائے،تجدیدکے لئے طلاق دینے کی ضرورت نہیں،طلاق دئیے بغیربھی دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے،اگرتین طلاقیں دیدیں توایسی صورت میں دوبارہ نکاح کے لئے شرعی حلالہ ضروری ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۷/ذی قعدہ ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


