03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرٹس میں “Merry Christmas” لکھوانے کا حکم
80357جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کسی کمپنی کے لیے شرٹس میں “Merry Christmas” لکھوا کر درآمد (export) کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یومِ ولادت پر منایا جاتا ہے، اس تہوار کی مبارکباد دینے کے لیے “Merry Christmas” بولا جاتا ہے۔ چونکہ غیر مسلموں کو ان کے مذہبی تہوار کے موقع پر مبارکباد دینا شرعاً ناجائز ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ جملہ (Merry Christmas) بولنا یا کسی چیز پر لکھنا اور اُس کی تشہیر کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (276/2):

"يكفر ... بخروجه إلى نيروز المجوس لموافقته معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم، وبشرائه يوم النيروز شيئا لم يكن يشتريه قبل ذلك تعظيما للنيروز لا للأكل والشرب، وبإهدائه ذلك اليوم للمشركين."

البحر الرائق (555/8):

"قال رحمه الله: (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

17/ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب