| 80356 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میزان بینک جوکہ اسلامی بینکاری کےطریقہ پرکام کرتا ہے، میں نے پوچھنا تھا کہ میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ اوپن کروایا جاسکتا ہے؟
وہاں سیونگ اکاؤنٹ کی مختلف کٹیگریز ہوتی ہیں،ایک وہ سیونگ اکاؤنٹ ہوتا ہے جس میں ہم اپنی ضرورت کے مطابق پیسے جمع بھی کروا سکتے ہیں اور نکلوا بھی سکتے ہیں۔
اور ایک سیونگ اکاؤنٹ وہ ہوتا ہے جس میں ہم ایک مقررہ مدت تک کے لیے پیسے جمع کروا دینگےاور نکلوا نہیں سکتے۔ بینک اُن پیسوں کی مالیت کے سرٹیفکیٹ دے دیتا ہے اور اس کے اوپر بینک ہمیں 3% سے 6% تک منافع دیتا ہے۔
کیا اس طرح کےبینک میں شیئر کرنااسلامی طور پر ٹھیک ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میزان بینک ایک غیر سودی بینک ہے،اس میں معاملات مستندعلماء کرام اور شرعی ایڈوائزرزکی زیرِ نگرانی سر انجام پاتے ہیں جو اس بات کی مکمل کوشش کرتے ہیں کہ تمام تر معاملات شریعت سے ہم آہنگ ہوں ۔اس میں سیونگ اکاؤنٹ مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر کام کرتےہیں اور اسی بنیاد پر نفع کی تقسیم ہوتی ہے ، اس میں نقصان کا بھی احتمال ہوتا ہے۔لہذا میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا جا سکتا ہے۔
چونکہ میزان بینک شریعت کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے،لہٰذا اس کےسیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونےوالا نفع (خواہ وہ سیونگ اکاؤنٹ کے نفع کے طور پر ملے یا کسی سرٹیفیکیٹ کی مدمیں)جائز ہے، اور اس طرح کے کسی بھی غیر سودی بینک سے معاملات کرنے میں شرعاُ کوئی ممانعت نہیں ہے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 363)
أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض: ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
17/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


