03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پب جی گیم کے اکاؤنٹ کی خرید و فروخت کا حکم
80366خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

آج کل پب جی کے نام سے ایک گیم متعارف ہے، جس کے اکاؤنٹس کی خرید وفروخت کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص یہ گیم کھیلتا ہے اس کو گیم کھیلتے ہوئے بہتر کارکردگی کی بنیاد پر پیسےملتے رہتے ہیں۔ جتنا اکاؤنٹ کا لیول بڑھتا رہتا ہے اتنا ہی وہ قیمتی ہوتا جاتا ہے۔ پھر وہ اکاؤنٹ کسی دوسرے شخص کو بیچ دیا جاتا ہے جو اس کو خریدنے کا خواہش مند ہو۔ خرید و فروخت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جس اکاؤنٹ کی بیع ہو رہی ہوتی ہے اس کا نام اور پاس ورڈ خریدنے والے شخص کو دے دیا جاتا ہے، اس طرح سے وہ اکاؤنٹ مشتری کے پاس چلا جاتا ہے، اور اس سے مقررہ رقم وصول کر لی جاتی ہے۔ اس خرید و فروخت کا شرعی حکم کیا ہے؟

وضاحت از مجیب: اس گیم سے واقف بعض حضرات سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ گیم میں بہتر کارکردگی پر جو پیسے ملتے ہیں وہ حقیقی نہیں ہوتے، بلکہ فرضی کوائنز ہوتے ہیں۔ ان سے باہر کی دنیا میں تو انسان کچھ نہیں خرید سکتا، لیکن اس گیم کے اندر ان کوائنز سے مختلف چیزیں جیسے تلوار اور ڈھال وغیرہ خرید سکتے ہیں جو گیم کھیلنے میں معاون ہوتی ہیں اور ان سے اکاؤنٹ کی قیمت بڑھتی ہے۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پب جی میں چونکہ بے انتہاء انہماک، وقت کا ضیاع، دینی فرائض اور دنیوی ذمہ داریوں سے غفلت، ذہنی، اخلاقی اور جسمانی صحت کا بگاڑ عام اور غالب ہے،جبکہ بعض اوقات اس کی وجہ سے خود کشی تک کی نوبت آجاتی ہے؛ اس لیے یہ گیم کھیلنا جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔  اگر اس گیم میں مذکورہ خرابیوں کے علاوہ کوئی اور خلافِ شرع کام (مثلا جوا، میوزک وغیرہ) بھی ہو تو وہ اس کے ناجائز ہونے کی دوسری مستقل وجہ ہوگی اور اس کی ممانعت مزید سخت ہوگی۔

لہٰذا جب یہ گیم کھیلنا جائز نہیں تو اس کا اکاؤنٹ کسی اور کو دینا اور اس پر پیسے لینا بھی جائز نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:

{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ}  [سورة لقمان: 6]

أحکام القرآن للتهانوی (3/202-199):

فالضابطة فی هذا الباب – عند مشایخنا الحنفیة – المستفادة من أصولهم و أقوالهم المذکورة آنفا:

 أن اللهو المجرد الذی لا طائل تحته و لیس له غرض صحیح مفید فی المعاش و لا المعاد حرام أو مکروه تحریما. و هذا أمر مجمع علیه فی الأمة، متفق علیه بین الأئمة.

و ما کان فیه غرض و مصلحة دینیة أو دنیویة، فإن ورد النهی عنه من الکتاب و السنة کان حراما أو مکروها تحریمیا، و ألغت تلك المصلحة و الغرض لمعارضتها النهی المأثورة حکما بأن ضرره أعظم من نفعه، و لیس من الضرورات أن یکون کل غرض و نفع یکتسبه الإنسان جائزا مباحا، کیف و الشیئ إذا غلب شره علی خیره و ضرره علی نفعه عد من المضرات عند العقلاء قطعا؟ و إلا فلا شیئ من السموم و المهلکات لا یکون فیه نفع ما و فائدة، و لکن لما غلب ضرره علی نفعه عدوه من المضرات، فکذلك لما ورد الشرع بالنهی عنه مع ما فیه من بعض الفوائد و المنافع، علمنا أن ضرره أعظم من نفعه، و الغیت تلك المنافع و المصالح فی جنب ما یتولد منه من المضار و المفاسد. ألا تری فیه قوله عز و جل: "فیهما إثم کبیر و منافع للناس و إثمهما أکبر من نفعهما"؟ فلم ینکر القرآن العزیز المنافع المودعة فیها، و لکن ورد علی أسلوب الحکیم حیث وضع المنافع و المضار فی میزان الحکمة و غلب غالبها.

و هذا أیضا متفق علیه بین الأئمة غیر أنه لم یثبت بعض النهی عند بعضهم فجوزه و رخص عنه، و ثبت عند غیره فحرمه و کرهه، و ذلك کالشطرنج؛ فإن النهی الوارد فیه متکلم فیه من جهة الروایة و النقل، فثبت عند الحنفیة و عامة الفقهاء فکرهوه، و لم یثبت عند ابن المسیب و ابن المغفل – و فی روایة عند الشافعی أیضا – فأباحوه.

و أما ما لم یرد فیه النهی عن الشارع، و (فیه) فائدة و مصلحة للناس فهو بالنظر الفقهی علی نوعین: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، و مفاسده أغلب علی منافعه، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذکر الله وحده (و) عن الصلوات و المساجد التحق ذلك بالمنهی عنه لاشتراك العلة، فکان حراما أو مکروها. و الثانی: ما لیس کذلك، فهو أیضا إن اشتغل به بنیة التلهی و التلاعب فهو مکروه، و إن اشتغل به لتحصیل تلك المنفعة و بنیة استجلاب المصلحة فهومباح، بل قد یرتقی إلی درجة الاستحباب أو أعظم منه.

خلاصة الکلام:

و فذلکة الکلام أن اللهو علی أنواع: (1) لهو مجرد، (2) و لهو فیه نفع و فائدة و لکن ورد الشرع بالنهي عنه، (3) ولهو فیه فائدة ولم یرد في الشرع نهي صریح عنه، ولکنه ثبت بالتجربة أنه یکون ضرره أعظم من نفعه، ملتحق بالمنهی عنه، (4) و لهو فیه فائدة و لم یرد الشرع بتحریمه، و لم یغلب علی نفعه ضرره، و لکن یشتغل فیه بقصد التلهی، (5) و لهو فیه فائدة مقصودة، و لم یرد الشرع بتحریمه، و لیس فیه مفسدة دینیة، و اشتغل به علی غرض صحیح لتحصیل الفائدة المطلوبة لا بقصد التلهی.

فهذه خمسة أنواع، لا جائز فیها إلا الأخیر الخامس، فهو أیضا لیس من إباحة اللهو فی شیئ بل إباحة ما کان لهوا صورة، ثم خرج عن اللهویة بقصد صالح و غرض صحیح فلم یبق لهوا………….. و ما یلعب به الصبیان من الجواز و البوتام (بتن) و الکرات الزجاجیة (کولیان) و أمثالها فإنها تشتمل علی القمار، فالواجب علی أولیائهم أن یمنعوهم عنها. و کذلك ما یقال له فی عرفنا (کنکوا)، سواء اشتمل علی القمار أم لا، و کذا التحریش بین البهائم و الطیور و اللعب بالناریات (آتش بازی) و أمثالها؛ فإنها کلها لو لم یتضمن معاصی و منکرات لا تخلو عنها عادة، فهی فی نفسها من اللهو المجرد الذی وقع الإجماع علی تحریمه أو کراهته. و إلی الله المشتکی عما وقع فیه کثیر من المسلمین من الملاهی المحرمة حتی جعلوها دیدنهم و اتخذوا دینهم لهوا و لعبا.

تکملة فتح الملهم (4/435):

الألعاب التی یقصد بها ریاضة الأبدان أو الأذهان جائزة فی نفسها ما لم یشتمل علی معصیة أخری، و ما لم یؤد الانهماك فیها إلی الإخلال بواجب الإنسان فی دینه و دنیاه. والله سبحانه أعلم.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       17/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب