| 80355 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
مَیں یونیورسٹی کا طالبِ علم ہوں، میرے والد صاحب کی تنخواہ سے میرے لیے اپنی فیس بھرنا مشکل ہوتا ہے۔ یونیورسٹی میں ایک اسکالرشپ میں سلیکٹ ہوا ہوں، اس اسکالرشپ میں ایک فارم مانگا گیا ہے جس پر زکوٰۃ اور عُشر کمیٹی سے دستخط لینے ہیں، اور یہ اسکالرشپ اسی شعبہ سے منظور ہو کر ملے گی۔ مَیں سید گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، تو کیا مَیں یہ اسکالرشپ لے سکتا ہوں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوٰۃ اور عُشر کمیٹی کی منظوری کے بعد اسکالرشپ ملنے کا مطلب اگر یہ ہے کہ کمیٹی آپ کو مستحقِ زکوٰۃ قرار دے کر اسکالرشپ کا اہل قرار دیتی ہے، تو یہ درست نہیں ہے، اور جن لوگوں کی زکوٰۃ کی رقم آپ کو دی جائے گی ان کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی، کیونکہ سیّد کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، اس لیے آپ ایسی اسکالرشپ نہیں لے سکتے۔
لیکن اگر زکوٰۃ اور عُشر کمیٹی کی منظوری سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ کی جانچ پڑتال کرکے سید ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ کسی اور مال سے آپ کو اسکالرشپ کا اہل قرار دیتی ہے، تو یہ درست ہے، اور آپ کے لیے اسکالرشپ لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (344/2):
"(لا) يصرف [المزكي] ... إلى (بني هاشم ... و) لا إلى (مواليهم) ... (وجازت التطوعات من الصدقات و) غلة (الأوقاف لهم) أي لبني هاشم، سواء سماهم الواقف أو لا، على ما هو الحق، كما حققه في الفتح."
رد المحتار (247/7):
"(قوله: وجازت التطوعات إلخ) قيد بها ليخرج بقية الواجبات كالنذر والعشر والكفارات وجزاء الصيد إلا خمس الركاز؛ فإنه يجوز صرفه إليهم، كما في النهر عن السراج."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
18/ذو القعدة/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


