| 80537 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میرے شادی کو دوسال ہوگئے،میرے شوہر کو شادی سے پہلے ہی مردانہ بیماری تھی جس کی وجہ سے دوسال کے دورانیہ میں وہ ایک بار بھی میراحقِ زوجیت ادا نہیں کرسکے،اسی وجہ سے ہمارے درمیان اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے،اور کئ دفعہ میں لڑائی کرکے اپنے میکے بھی آئی لیکن گھر والے صلح کرکے واپس لے آتے تھے،میرے شوہراکثر لڑائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے میکے چلی جاؤ اور واپس کبھی نہ آنا اور عدالت سے خلع لے لینا، کبھی کہتے ہیں کہ تمہارا دوسرا شوہر ہوگا وہ تمہیں مارے گا، تنگ کرے گا ،اس طرح کے طعنے دیتے ہیں، ایک دن بار بار مجھےتنگ کررہے تھےاور کہہ رہے تھے کہ کیا تم طلاق طلاق کہتی رہتی ہو ،میں نے کہا کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی تو جواب میں میرے شوہر نے کہا کہ ہاں! میں نے دیدی ہے، اب وہ کہتے ہیں کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی،سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کا اقرار اگرچہ جھوٹا ہو، اس سے قضاءً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اگر شوہر نے بیوی کے سوال کے جواب میں یہ کہا کہ ’’میں نے تمہیں طلاق دیدی ہے ‘‘ تو اس طرح کا اقرار کرنے سے قضاءً ایک طلاق رجعی واقع ہوگئ ہے اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت نہ کی ہو کیوں کہ طلاق کے صریح الفاظ کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، قضاءً کا مطلب یہ ہےکہ بیوی اس کو طلاق سمجھے گی ،نیز اگر یہ معاملہ قاضی کے پاس جائےگا تو وہ بھی اس میں طلاق کے وقوع کا فیصلہ کریگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
حاشية رد المحتار (3/ 276)
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۲۹؍ذوالقعدۃ ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


