| 80498 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے ہاں مدرسہ میں حفظ کی چار درسگاہیں ہیں، جن میں تقریباً 117 طلبائے کرام ہیں۔ جس بچے کا تکمیل قرآن ہو تو وہ بچہ تمام طلباء کا مٹھائی کے ذریعے اکرام کرتا ہے یا کھانا کھلاتا ہے۔ نیز انتظامیہ سمیت اساتذہ کرام کو تحفے تحائف بھی دیتا ہے، لیکن انتظامیہ اور اساتذہ کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں ہوتا، یہ سب کچھ طلبائے کرام اور سرپرست اپنی خوشی سے کرتے ہیں، لیکن بعض طلبائے کرام جو غریب اور نادار ہوتے ہیں، وہ بھی ان طلبائے کرام کو دیکھ کر اپنے گھر والوں کو اس طرح اکرام کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو اس طرح اکرام کرنا اور تحائف کو قبول کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ نیز ہماری اس میں کیا شرعی زمہ داری ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ختم قرآن کریم کے موقع پر مٹھائی کے ذریعہ اکرام کرنا یا کھانا کھلانا بذات خود جائز ہے اور اسلاف سے ثابت ہے بشرطیکہ نام ونمود کے لئے نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کو لازم سمجھا جائے۔شرعی حدود میں رہ کر دعوت کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
مدرسہ کے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طلباء کو اس بات کی ترغیب دیں کہ اس طرح کا اکرام کرنا اس موقع پر لازم نہیں ہے ،اور اس امر کے لئے والدین کو پریشان کرنا درست نہیں ہے۔اسکے ساتھ ساتھ کبھی دعوت وغیرہ نہ کرنے کا بھی اہتمام کیاجائے،بالخصوص جس طالبِ علم کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کے گھر والوں کے معاشی حالات ایسے نہیں ہیں کہ آسانی سےیہ اخراجات کرسکیں،مدرسہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو دعوت وغیرہ کسی بڑے اہتمام سے منع کرے۔
حوالہ جات
الدر المنثور: (54/1)
أخرج الخطیب في رواة مالک والبیہقي في شعب الإیمان عن ابن عمر قال: تعلم عمر البقرة في اثنتي عشرة سنة فلما ختمہا نحر جزوراً۔
سنن الدارقطني: (رقم الحديث: 2886)
ثنا أبو العباس الفضل بن أحمد بن منصور الزبيدي جار البعراني ، نا عبد الأعلى بن حماد ، نا حماد بن سلمة ، عن علي بن زيد بن جدعان ، عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لا يحل مال امرئ مسلم إلا عن طيب نفس)۔
رد المحتار: (کتاب القضاء، 373/5)
ولا یلحق بالقاضي فیما ذکر المفتي والواعظ ومعلم القرآن والعلم؛ لأنہم لیس لہم أہلیۃ الإلزام، و الأولی في حقہم إن کانت الہدیۃ لأجل مایحصل منہم من الإفتاء الوعظ والتعلیم عدم القبول لیکون عملہم خالصاً ﷲ تعالی، وإن أہدی إلیہم تحبباً وتودداً لعلمہم وصلاحہم، فالأولی القبول۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
29/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


