| 80502 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
12/ جون 2023ء کو مَیں اپنے شوہر سے ناراض ہوکر اپنی امی کے گھر چلی گئی تھی، مَیں نے کہا تھا کہ مَیں نے کبھی نہیں آنا، اس لیے مجھے طلاق دے دو! میرے شوہر نے کہا: تم گھر آجاؤ، اگر مَیں وہ کام نہ کرسکا تو تم ہمیشہ کے لیے چلی جانا پھر کبھی واپس نہ آنا۔ مَیں نے ان کی بات مانی، اور اپنے شوہر کے گھر آگئی، مگر میرے شوہر وہ کام نہ کرسکے۔ کچھ دن بعد انہوں نے کہا: تم کیا ہر وقت مجھے کہتی ہو، مجھے طلاق دو، مجھے طلاق دو۔ مَیں نے پوچھا: کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے؟ میرے شوہر نے کہا: ہاں! اور ایک دن غیر ارادی طور پر غصے میں کہا: تم فلاں سے نکاح کرلو! کیا ایسے میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ "تم فلاں سے نکاح کرلو!" طلاق دینے اور نہ دینے، دونوں کا احتمال رکھتا ہے، اس لیے اس میں آپ کے شوہر کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ نیز شوہر کا یہ جملہ "تم کیا ہر وقت مجھے کہتی ہو، مجھے طلاق دو، مجھے طلاق دو!" اگرچہ اخبارِ طلاق نہیں ہے، لیکن جب آپ نے شوہر سے پوچھا کہ "کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے؟" اور شوہر نے "ہاں!" کہہ کر جواب دیا، تو یہ قضاءً طلاق کا اقرار ہے، لہٰذا آپ کے سوال کے جواب میں شوہر کا "ہاں!" کہنے سے ایک صریح طلاق واقع ہوچکی ہے۔
نیز "تم فلاں سے نکاح کرلو!" طلاق کی نیت سے بولنے کی صورت میں ایک طلاقِ بائن بھی واقع ہوچکی ہے۔ یہ کُل دو طلاقیں ہوگئی ہیں، اس لیے لڑکا، لڑکی کا نئے نکاح کے بغیر دوبارہ ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ نکاح کے لیے اُس اہتمام اور اعلان وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے جو عموماً نکاح میں ہوتا ہے، بلکہ صرف دو مسلمان مردوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ البتہ اس نکاح کے لیے الگ سے نیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے۔ اور آئندہ شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
رد المحتار (458/10):
"ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا، وقع قضاء لا ديانة."
بدائع الصنائع (105/3):
"أما الكناية فنوعان : نوع هو كناية بنفسه وضعا، ونوع هو ملحق بها شرعا في حق النية. أما النوع الأول، فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره، نحو قوله: أنت بائن، أنت على حرام، خلية، برئية، بتة، أمرك بيدك، اختاري، اعتدى، استبرئي، رحمك، أنت واحدة، خليت سبيلك، سرحتك حبلك، على غاربك، فارقتك، خالعتك، ولم يذكر العوض، لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، لا نكاح لي عليك، أنت حرة، قومي، أخرجي، أغربي، انطلقي، انتقلي، تقنعي، استتري، تزوجي، ابتغي الأزواج، إلحقي بأهلك، ونحو ذلك، سمي هذا النوع من الألفاظ كناية."
بدائع الصنائع (106/3):
"إن ذكر شيئا من ذلك ثم قال: ما أردت به الطلاق، يُدَيَّن فيما بينه وبين الله تعالى؛ لأن الله تعالى يعلم سره ونجواه. وهل يدين في القضاء؟ فالحال لا يخلو: أما إن كانت حالة الرضا وابتدأ الزوج بالطلاق، وأما إذا كانت حالة مذاكرة الطلاق وسؤاله، وأما إن كانت حالة الغضب والخصومة... وإن كانت حال مذاكرة الطلاق وسؤاله، أو حالة الغضب والخصومة، فقد قالوا: إن الكنايات أقسام ثلاثة:
في قسم منها لا يدين في الحالين جميعا؛ لأنه ما أراد به الطلاق، لا في حالة مذاكرة الطلاق وسؤاله، ولا في حالة الغضب والخصومة. وفي قسم منها يدين في حال الخصومة والغضب، ولا يدين في حال ذكر الطلاق وسؤاله. وفي قسم منها يدين في الحالين جميعا.
أما القسم الأول، فخمسة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، استبرئي رحمك، أنت واحدة ... وأما القسم الثاني، فخمسة ألفاظ أيضا: خلية، بريئة، بتة، بائن، حرام ... وأما القسم الثالث، فبقية الألفاظ التي ذكرناها؛ لأن تلك الألفاظ لا تصلح للشتم، وتصلح للتبعيد والطلاق؛ لأن الإنسان قد يبعد الزوجة عن نفسه حال الغضب من غير طلاق وكذا حال سؤال الطلاق، فالحال لا يدل على إرادة أحدهما، فإذا قال: ما أردت به الطلاق، فقد نوى ما يحتمله لفظه، والظاهر لا يخالفه، فيصدق في القضاء."
الفتاوى الهندية (377/1):
"الطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح، بأن قال لها: أنت طالق، ثم قال لها: أنت بائن، تقع طلقة أخرى."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
29/ذو القعدة/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


