| 80541 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک خاتون ﴿ بنام شمیم فیاض﴾کا انتقال ہوا ،ان کی ملک میں ایک مکان اور دیگر سامان موجود ہیں ، مرحومہ کے کل دو بھائی اور دو بہنیں تھیں،ایک بھائی کا مرحومہ کی زندگی میں بہت پہلے انتقال ہوچکا تھا ، اس کی بیوہ اور دو لڑکیاں حیات ہیں ، اور دونوں بہنوں کا انتقال ہوگیا ہے ،ایک مرحومہ کی زندگی میں انتقال کرگئی تھی ،اس کی ایک بیٹی حیات ہے ،اور ایک بہن کا انتقال مرحومہ کے بعد ہوا ہے ،اس کا شوہر ایک لڑکی اور دو لڑکے زندہ ہیں ، ایک بھائی ابھی حیات ہیں ،اس کی دو لڑکیاں اور ایک لڑکا حیات ہے ،
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے انتقال کے وقت ان کی ملک میں منقولہ غیر منقولہ جائداد ، سونا چاندی ،نقدی ،اور چھو ٹا بڑا جو بھی سامان تھا سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، اس میں سے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحومہ کےذمے کسی کا قرض ہو تو کل مال سے اس کو ادا کیاجائے ،اس کے بعد اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیاجائے ، اس کے بعد مال کو مساوی تین حصوں میں تقسیم کرکے دوحصے اس وقت بقید حیات موجود بھائی کو دئے جائیں گے ،اور ایک حصہ اس بہن کا ہے جو مرحومہ کے انتقال کے بعد وفات پاچکی ہے ، ﴿ پھر مرحومہ بہن کو ملنے والا حصہ اس کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ اس مال کو مساوی 20حصوں میں تقسیم کرکےشوہر کو 5 حصے لڑکی کو 3حصے ،اور دونوں لڑکوں میں سے ہرایک کو 6،6 حصے دئے جائیں گے﴾
حوالہ جات
۰۰۰۰۰۰
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
یکم ذی الحجہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


