| 80555 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک شخص کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، ان میں سے ایک بیٹی کی مالی حالت کمزور تھی ، والد نے اپنی ایک جگہ ان کو دی لیکن وہ جگہ غیرآباد ہونے کی وجہ سے بیٹی نے قبول کرنے سے انکار کردیا ، پھر والد نے اس بیٹی کو ایک کنال زمین دوسری جگہ سے دی لیکن یہ زمین اس شخص کی ذاتی زمین نہیں ہے بلکہ اس کے بیٹوں کی خریدی ہوئی تھی اور بیٹوں کے ہی نام پر ہے ،والدنے جوزمین بیٹی کودی تھی لیکن نام منتقل نہیں کیا تھا اور والد کا انتقال ہوگیا ، اس کے بعد ورثا ء کے درمیان میراث تقسیم ہوگئی ہے ،بعد میں بھائیوں نے یہ زمین بہن کے نام کردی اور جو زمین بہن کو میراث میں مل رہی ہے ،وہ بہن نے بھائیوں کے نام کردی ،اس تبادلہ کے بعد اب بہن کہتی ہے کہ یہ جگہ جس میں ہم رہ رہے ہیں یہ بھی ہماری ہے اور جو جگہ میراث میں مل رہی ہے وہ بھی مجھے دی جائے ،﴿ باوجودیکہ بہن نے اس جگہ کا تبادلہ کرکے بھائیوں کے نام کردی تھی ﴾اب بہن میراث کے طور پر دوبارہ لے سکتی ہے یا نہیں ؟
اس کے علاوہ بھی کچھ زمینیں بیٹوں کی ذاتی خریدی ہوئی تھی جو والدہ نے مختلف بیٹوں کو ھبہ کرکے ان کے نام منتقل کردیا ،بہن کہتی ہےجو زمین والد نے تمہیں ھبہ کی ہے اس میں سے بھی مجھے حصہ دو ،والد نے ہوش وحواس میں انتقال کیا اور بیٹوں کا اس پر 30، 32 سال سے اس پر قبضہ بھی ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو اولاد اپنے والد کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہو او ر کمائی بھی کرتی ہو ان کی کمائی کے حکم کی تفصیل یہ ہےکہ 1۔والد اور اولاد کی کمائی کا ذریعہ ایک ہو مثلا باپ کی دکانداری یا زمین داری اس میں اولا د بڑی ہو کر شامل ہوگئی اور ساتھ ہی محنت کرکے مال کو بڑھایا تو پوری کمائی باپ کی شمار ہوتی ہے ،
2۔یا اولا د کی کمائی کا ذریعہ تو الگ الگ ہے اور کمائی کی مقدار بھی کم ووزیادہ ہے ،لیکن کھانا پینا ایک ساتھ ہے اولاد اپنی کمائی باپ والد کے حوالے کرتی رہی اور سارا مال والد کا شمار ہوتا رہا اور والدہی گھر کا خرچ چلا تا رہا ، اس دوران والد نے مجموعی آمدن سے کچھ جائدادیں خریدیں ، تو ان دونوں صورتوں میں پورا مال والد کا شمار ہوگا ۔ انتقال کی صورت میں بیٹوں کو الگ سے مال نہیں ملے گا بلکہ میراث کے قانون کے مطابق ہی ہرایک کو حصہ ملے گا ۔
3۔ اولاد کی کمائی الگ تھی اور اولاد نےاپنی کمائی سے باپ کی زندگی میں اپنے لئے جائدادیں خریدیں ، باپ کواس کا مالک نہیں بنایا تو ایسی صورت میں جس نے جو جائداد خریدی ہے وہی اس کا مالک ہے ،والد بیٹوں کی جائداد کا مالک نہیں ہوگا اور والد کو اپنی زندگی میں بیٹوں کی جائداد میں مالکانہ تصرف کاحق بھی نہ ہوگا ،اور والد کے انتقال کی صورت میں بیٹوں کا مال اس کی میراث میں شامل نہ ہوگا ، اور ان کے ورثاء میں تقسیم بھی نہ ہوگا ۔
اس تفصیل کی روشنی میں صورت مسئولہ میں سوال کی تحریر کے مطابق لڑکے اپنی خریدی ہوئی جائداد کے خود مالک تھے ، والدان کی جائداد کے مالک نہیں تھے تو ایسی صورت میں والد نے جو تصرف کیا ہے کہ اولاد کی زمین میں ایک کنال بیٹی کو دیدی شرعا یہ تصرف غیر معتبر مانا جائے گا ،اور لڑکی والد کی عطا کردہ ایک کنال زمین کی مالک نہیں بنی ، لہذا والد کے انتقال بعدمیراث کی تقسیم میں لڑکی کو جو زمین ملی ہے اس کا اس ایک کنال زمین کے ساتھ تبادلہ درست ہوگیا ۔ جہاں تک تعلق ہے لڑکی کی طرف سے زمین کے علاوہ مزید مال کے مطالبے کا اس کاحکم یہ ہے کہ اگر لڑکی کو والدکے ترکے سے میراث کا پورا حصہ مل چکا ہے تو مزید مال کا مطالبہ جائز نہیں ،ورنہ جائز ہے ،اس صورت میں لڑکوں پر بھی لازم ہے کہ لڑکی کو والد کے کل ترکے سے میرا ث کا پورا حصہ حوالے کردے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 325)
ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان.
وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالوا هم أو امرأته بعد موته: إن هذا استفدناه بعد موته فالقول لهم، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
یکم ذی الحجہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


