| 80216 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
گھر میں کافی سارے پرانے نوٹ رکھے ہوئے ہیں ، بعض لوگ پرانے نوٹ کم قیمت پر خرید لیتے ہیں ، مثلا 100 کے بدلے 70 روپے دیتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ پرانے نوٹوں کا اس طرح کم قیمت پر تبادلہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو کرنسی نوٹ رائج ہو یعنی حکومت نے اس کا چلن ختم نہ کیا ہو وہ چاہے پرانا بھی ہو سرکاری طور پر اس کی قیمت میں کمی نہیں آتی ، چنانچہ اگر اس کا بینک سے تبادلہ کیاجائے توپوری قیمت ملتی ہے ، اس لئے ایسے نوٹ کی ملکی کرنسی کے ساتھ تبادلہ جائز ہونے کے لئے شرعا برابری ضروری ہے ،اس میں کمی زیادتی کرنے کی صورت میں سود لازم آئے گا اس لئے 100 کےایسے پرانے نوٹ کو 70 یا کم زیادہ کے ساتھ بدلنا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 81)
قال: "فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة" لقوله عليه الصلاة والسلام: "الذهب بالذهب مثلا بمثل وزنا بوزن يدا بيد والفضل ربا" الحديث. وقال عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء" وقد ذكرناه في البيوع.
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۳ ذی قعدہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


