| 79627 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ایک آدمی نے کسی سے بھینس لی اور اس کو کہا کہ یہ بھینس میں پالوں گا،یعنی دیکھ بھال کروں گا، جب اس کے بچے پیدا ہوجاۓ تو بھینس آپ کو واپس کر دوں گا ،بچے میرے ہوجائیں گے،اسی عرصہ میں جو دودھ ہوگا وہ آپ کو دوں گا،دوسرے آدمی نے کہا کہ ٹھیک ہے، اس نے اس کو دے دی۔ اب اس بندہ نے مالک کو بھینس واپس کردی اور کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں اس کو نہیں پال سکتا،لہٰذا آپ اپنی بھینس واپس لے لو،لیکن تین چار مہینے جو دیکھ بھال کی ہے اس کا عوض دیدو،مالک کہتا ہے کہ بات تو بچے کی ہوئی تھی اور بچہ نہیں ہوا لہذا آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔سوال یہ ہے کہ اس بندہ نےبھینس خود واپس کی ہے تو اب اس کو اس کا عوض دیا جائے گا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اس شرط پر بھینس پالنا کہ اس کا بچہ میر اہوگا یہ اجارہ فاسدہ ہے،اجارہ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ بھینس سے حاصل ہونے والے منافع چاہے دودھ کی صورت میں ہو یا بچے کی صورت میں ہو اصل مالک کے ہوں گے اور دیکھ بھال کرنے والے کو اجرت مثل ملے گی،یعنی اس جیسی خدمت کی جو اجرت عام طور پر ملتی ہو مذکورہ شخص بھی اسی اجرت کا شرعا مستحق ہے،نیز اگر دیکھ بھال کرنے والے نے پیسوں سے چارہ خرید کر کھلایا ہو تو اس کے پیسے بھی مالک کے ذمہ ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر پالنے والے نے دودھ استعمال کیا ہو تو اندازہ لگا کر اس کی قیمت دی جانے والی اجرت سے منہا کی جائیگی۔
حوالہ جات
(الفتاوی الھندیة: کتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه، ج:36ص: 120)
" دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه،وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه،لا ما سرحها في المرعى ".
(خلاصة الفتاوی:ج:3 ، ص:114، کتاب الإجارة، الجنس الثالث في الدواب ومایتصل بها)
" رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة،والإجارة فاسدة".
ابرار احمد صدیقی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
/۲۷ ذی الحجہ /١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابراراحمد بن بہاراحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


