03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیٹ کے بل لیٹنے کا حکم
80612جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی آدمی جان کر الٹا لیٹے تاکے شہوت پیدا ہو اور منی نکلے لیکن وه شرم گا ہ کو ہاتھ بھی نہ لگاۓ اور نہ کوئی گندا خیال دل میں آنے دے اور منی خارج ہو جاۓ تو کیا یہ بھی گناہ ہے اور مشت زنی میں داحل ہے.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پیٹ کے بل الٹا لیٹنے سے احادیثِ مبارکہ میں منع کیاگیاہے ، جس کی مختلف وجوہات ہیں:

1۔جہنمی اس طرح لیٹیں گے

2.اللہ کو ناپسند ہے۔

3. شیطان کے سونے کا طریقہ ہے

4. اس طرح الٹا سونا صورتاً بھی قبیح اور برا ہے ، اور طبی لحاظ سے صحت کے لیے بھی مضر اور نقصان دہ ہے۔

اس لئے اس طرح لیٹنے سے اجتناب کرناضروری ہے خاص طورپرالٹنے لیٹنے  کامقصد بھی جب برا ہوتواس کی شناعت اورقباحت مزید بڑھ جاتی ہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود - (ج 2 / ص 729)

عن يعيش بن طخفة بن قيس الغفاري قال: كان أبي من أصحاب الصفة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم :انطلقوا بنا إلى بيت عائشة [ رضي الله عنها ] فانطلقنا فقال " يا عائشة أطعمينا " فجاءت بجشيشة ( الجشيش ما يجش من الحب فيطبخ والجش طحن خفيف ) فأكلنا ثم قال :" يا عائشة أطعمينا " فجاءت بحيسة ( الحيس اخلاط من تمر وسويق واقط وسمن يجمع فيؤكل . هامش د ) مثل القطاة فأكلنا ثم قال " يا عائشة اسقينا " فجاءت بعس ( بضم العين المهملة وتشديد السين القدح الضخم ) من لبن فشربنا ثم قال " يا عائشة اسقينا " فجاءت بقدح صغير فشربنا ثم قال " إن شئتم بتم وإن شئتم انطلقتم إلى المسجد " قال: فبينما أنا مضطجع في المسجد من السحر على بطني إذا رجل يحركني برجله فقال " إن هذه ضجعة يبغضها الله " قال فنظرت فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچ

     ۲۲/ذی ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب