| 80619 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
"زنا قرض ہے، اگر تُو نے اسے لیا تو ادا تیرے گھر والوں سے ہوگی" کیا یہ روایت من گھڑت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکورہ روایت حدیث کی صحیح بلکہ ضعیف کتابوں سے ہمیں نہیں ملی، اس لیے بظاہر یہ موضوع روایت ہے۔ ایسی من گھڑت روایات کو نقل کرنے سے احتراز لازم ہے۔ البتہ مسندِ احمد میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث منقول ہے جس میں اس واقعے کا ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کسی نوجوان نے زنا کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں حکمت کے ساتھ زنا کی قباحت سمجھا کر منع فرما دیا، اور اُن کی توجہ اس طرف دلائی کہ اگر اس کے گھر کی عورتوں کے ساتھ زنا کیا جائے تو وہ کیسا محسوس کرے گا؟ اس لیے وہ جس سے زنا کرے گا وہ بھی تو کسی کے گھر کی عورت ہوگی۔ شاید اسی مضمون کی وجہ سے کسی نے یہ سمجھ لیا ہو کہ زنا قرض ہے، اور اس کو حدیث کے عنوان سے بیان کر دیا، لیکن یہ بات کسی حدیث سے ہمیں نہیں ملی۔
حوالہ جات
مسند أحمد (545/36):
"عن أبي أمامة قال: إن فتى شابا أتى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه. مه. فقال: «ادنه، فدنا منه قريبا». قال: فجلس قال: «أتحبه لأمك؟» قال: لا، والله جعلني الله فداءك. قال: «ولا الناس يحبونه لأمهاتهم». قال: «أفتحبه لابنتك؟» قال: لا، والله يا رسول الله جعلني الله فداءك قال: «ولا الناس يحبونه لبناتهم». قال: «أفتحبه لأختك؟» قال: لا، والله جعلني الله فداءك. قال: «ولا الناس يحبونه لأخواتهم». قال: «أفتحبه لعمتك؟» قال: لا، والله جعلني الله فداءك. قال: «ولا الناس يحبونه لعماتهم». قال: «أفتحبه لخالتك؟» قال: لا، والله جعلني الله فداءك. قال: «ولا الناس يحبونه لخالاتهم». قال: فوضع يده عليه وقال: «اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه، وحصن فرجه» قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
24/ذوالحجۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


