03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت میں سگے بھائی کے حصے کا حکم
80629میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ بھائی کی جائیداد میں کس کس کا حصہ ہوگا، جب کہ ماں باپ کا انتقال کافی پہلے ہوچکا ہے اور والد کی جائیداد میرے بڑے بھائی کے پاس تھی۔ بڑے بھائی کی ایک بیوی اور ایک بیٹی ہےاور میں چھوٹا بھائی ہوں۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے اور والد صاحب کی وراثت میں حصے متعین کردیے تھے البتہ تقسیم نہیں کی گئی تھی۔اور یہ جائیداد بڑے بھائی کے قبضے میں تھی۔ مزید یہ کہ والد کے انتقال کے وقت ان کے والدین یعنی سائل کے دادا ، دادی حیات نہیں تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم کے ترکہ میں سے پہلےتجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان نہ اٹھائے ہوں،اس کے بعد قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی، پھر اگر انہوں نے کوئی جائزوصیت کی ہوتو وہ کل ترکہ کے ایک تہائی (1/3)حصے میں نافذ ہوگی۔ اس کے بعد بقیہ ترکہ کو 8حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، 1حصہ بیوہ (بڑے بھائی کی بیوی) کا، 4 حصے بیٹی کے اور بقیہ 3حصے بھائی(سائل) کے۔

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

بیوی

1

12.5%

بیٹی

1

50%

بھائی

1

37.5%

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ} [النساء: 11]

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۴/ذوالحجہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب