03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ اورایک بیٹی میں میراث کی تقسیم
80654میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔ مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ایک بیوہ عورت ہے اور اس کی ایک بچی ہے ۔۔ اب اس بچی کو کتنا ملے گا اور بیوہ کو کتنا میت کی وراثت سے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موجودہ صورت میں بیوہ کوشوہرکی میراث کاآٹھواں حصہ ملےگااورباقی میراث بیٹی کوملےگی۔

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث"19:احوال بنات الصلب:وامالبنات الصلب فأحوال ثلث:النصف للواحدۃ،والثلثان للاثنین فصاعدۃ،ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھو یعصبھن۔۔۔

"سورۃ النساء" آیت 12:۔۔۔۔۔وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

23/ذی الحجۃ      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب