| 80654 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔ مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ایک بیوہ عورت ہے اور اس کی ایک بچی ہے ۔۔ اب اس بچی کو کتنا ملے گا اور بیوہ کو کتنا میت کی وراثت سے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موجودہ صورت میں بیوہ کوشوہرکی میراث کاآٹھواں حصہ ملےگااورباقی میراث بیٹی کوملےگی۔
حوالہ جات
"السراجی فی المیراث"19:احوال بنات الصلب:وامالبنات الصلب فأحوال ثلث:النصف للواحدۃ،والثلثان للاثنین فصاعدۃ،ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھو یعصبھن۔۔۔
"سورۃ النساء" آیت 12:۔۔۔۔۔وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
23/ذی الحجۃ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


