| 80663 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے کالج کے دور سے ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا ۔ میں نے یہ بات اس سے ظاہر بھی کی ۔اس کا جواب یہ تھا کہ گھر والوں سے بات کر لی جائے اور دونوں ہی گھر کے لوگوں کی رائے سے رضامندی سے نکاح ہو جائے۔ پہلے میرے گھر والے راضی نہ ہو رہے تھے ،جب وہ راضی ہوئے تو اب لڑکی کے گھر والے راضی نہیں ہو رہے اور لڑکی کے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی برادری کے علاوہ کسی دوسری غیر برادری میں لڑکی کی شادی نہیں کریں گے ۔اسی بنا پر لڑکی کا کہنا یہ تھا کہ گھر والوں کی مرضی سے ہی شادی کریں گے۔ ان کے گھر والے راضی نہیں ہو رہے ہیں اور میں تمام کوشش کر کے بھی کوئی حل نہیں نکل پا رہا ۔ میرے گھر کے بڑے بات بھی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بات نہیں کر رہے ۔ایسی صورت میں اگر لڑکی کے گھر والے لڑکی کی مرضی خلاف جا رہے ہیں تو شریعت کا کیا حکم ہے ؟کتاب و سنت کی روشنی میں تحریری جواب میرے میل پر ارسال کر دیجئے جزاک اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ لڑکا اور لڑکی جب عاقل بالغ ہوں تو نہ ان کا زبردستی نکاح کروایا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ فلاں سے نکاح کریں اور فلاں سے نہ کریں۔بلکہ شریعت دونوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنی آزادنہ رضا مندی سے جہاں چاہے نکاح کرسکتے ہیں۔اگر زبردستی نکاح کروا بھی دیا جائے تو ان کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔صورت مسؤلہ میں لڑکی کے گھر والوں کا لڑکی کی مرضی کےخلاف رشتہ سے انکار کرنے کی شرعی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں ہے۔
شادی کا معاملہ چونکہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے اور عموما والدین اس میں اولاد کی خیر خواہی کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں لہذا اس معاملے میں خود سےکوئی انتہائی قدم اٹھانے کے بجائے باہمی رضامندی اور بڑوں کے مشورہ سے فیصلہ کیا جائے۔ نیز والدین کو بھی چاہیے کہ اولاد کی زندگی کے مسائل میں ان کی خواہش اور رائے کو بھی ملحوظ رکھیں
حوالہ جات
الدر المختار (3/ 58)
(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 58)
(قوله ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغيرين ح عن القهستاني (قوله البكر) أطلقها فشمل ما إذا كانت تزوجت قبل ذلك، وطلقت قبل زوال البكارة فتزوج كما تزوج الأبكار نص عليه في الأصل بحر (قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح فلان يخطبك أو يذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها بحر عن المحيط.
عبدالقیوم
دارالافتاء جامعۃ الرشید
27/ذوالحجہ /1444
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


