| 80668 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
جان محمد کا انتقال ہوگیا ہے، اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔اس کا ایک ہی بھائی، یار محمد تھا، اس کا انتقال جان محمد کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ یار محمد کےدو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہے۔ ان کے علاوہ کوئی رشتےدار نہیں۔
جان محمد کی میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے، وہ مرحوم کے دو نوں بھتیجوں کو برابر برابر ملے گا ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 783)
أن ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام قال في الرحبية:وليس ابن الأخ بالمعصب ... من مثله أو فوقه في النسب.
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/ذی الحجہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


