03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ کی تقسیمِ میراث
80669میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

یار  محمد کی بیوہ (طوطیہ )کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہے، جبکہ ایک بیٹے کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا۔ طوطیہ  کے والدین حیات نہیں ہیں، دو بہنیں اور ایک بھائی تھا،ان سب  کا  پہلے ہی انتقال ہو گیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے پانچ حصے کر کے ، دو  دو حصے ہر بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو ملےگا۔

حوالہ جات

{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

الاختيار لتعليل المختار (5/ 93)

(وعصبة بغيره وهم أربع من النساء يصرن عصبة بإخوتهن، فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) لقوله - تعالى -: {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] .

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

26/ذی الحجہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب