| 80674 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اور مفتیانِ شرع مبین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ”جی پی فنڈ پہلے حکومت سرکاری ملازم سے بغیر پوچھے کاٹتی اور بغیر پوچھے اس پر نفع شامل کر کے دیتی تھی، اس کو تو علماء نے جائز قرار دیا تھا۔ مگر اب جیسا کہ آپ حضرات کے علم میں ہوگا کہ سرکاری ملازم سے جی پی فنڈ کی مد میں حکومت کچھ رقم کاٹ کر جمع کرتی ہے اور اس کاٹنے میں ملازم سے نہیں پوچھتے یعنی یہ کٹوتی پہلے کی طرح اب بھی جبری ہے، البتہ اب حکومت ملازم کو ایک اختیار دیتی ہے کہ تم اس پر نفع یعنی سود لوگے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ جن ملازمین نے " نہیں" اختیار کر لیا ہو اس کی ماہانہ تنخواہ نامے ( سیلری سلِپ ) میں GPF lnterest Free واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے۔ جبکہ جو ملازمین لیتے ہیں تو ان کی سیلری سلِپ میں Interest applied لکھا ہوتا ہے یعنی حکومت اس اضافے کو انٹرسٹ ( سود ) ہی کا نام دیتے ہیں۔ اب جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا اب بھی اگر کوئی ملازم نفع وصول کرنے کو اختیار کرے تو یہ سود میں شمار ہوگا یا نہیں ؟ جزاکم اللّٰہُ خیراً
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی پی فنڈ درج ذیل تین رقوم کا مجموعہ ہوتاہے: (ا)ملازم کی تنخواہ سے کی جانے والی کٹوتی کی رقم (۲) حکومت کی طرف سے ملنے والا اضافہ (۳) وہ اضافی رقم جو جی پی فنڈ کی رقم کو کسی سودی ادارے میں رکھواکر وصول کی جاتی ہے۔
ان میں سے ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم تو ملازم کی تنخواہ کا حصہ ہے جس کا لینا بلاشبہ جائز ہے،جبکہ اس پر حکومت کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم بھی تنخواہ کا حصہ ہی شمار ہوگی اور اس کا لینا بھی جائز ہے،اگرچہ حکومت اسے سود کے نام سے دے،کیونکہ ملازم کی تنخواہ سے اس رقم کی کٹوتی جبراً ہونے کی وجہ سے یہ رقم ملازم کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے اس رقم سے متعلق کئے گئے متعلقہ محکمے کے اقدامات کی نسبت ملازم کی طرف نہیں کی جاسکتی،لہذا اختتامِ ملازمت پر جب حکومت یہ رقم ملازم کو دے تو حکومت کی طرف سے یہ اجرت ہی کہلائے گی ،نہ کہ سود اورملازم کےلیے اس کالینا فی نفسہ جائز ہوگا،اگرچہ حکومت اس کو سود کے نام سےدے۔
تاہم محکمے کی طرف سے اضافی شامل کی جانے والی رقم کے اختیاری ہونے کی صورت میں شبہ ِ ربا یا ذریعہ ربا ہونے کی وجہ سے اس کا نہ لینا یا لے کر صدقہ کردینا بہتر ہے،لیکن اگر کوئی لے کر استعمال کرلے تو اسے سودی رقم کے استعمال کا مرتکب نہیں قرار دیا جاسکتا۔
جہاں تک اُس تیسری قسم کا تعلق ہے جس میں حکومت ملازم کی مذکورہ بالا رقوم کوکسی سودی ادارے میں رکھواکراس پراضافہ لیکرملازم کی جی پی فنڈ میں شامل کرتی ہےاورریٹارمنٹ پر دیتی ہے ،مذکورہ بالا وجہ(ملازم کی ملکیت میں نہ آنے کی وجہ اجرت کا حصہ ہونے) کی بنا پر اس رقم کے لینے کی بھی بذاتِ خود گنجائش ہے،لیکن اس قسم سے بھی بوجہ شبہِ ربا یا ذریعہ ربا ہونے کے احتراز بہتر ہے۔
نیزتیسری قسم کی رقم کا یہ حکم(احتراز کا استحباب) اس صورت میں ہے جب محکمہ اس فنڈ سے متعلق انتظامات خود سنبھالے،ملازم یا اس کے وکیل کا ان معاملات میں کوئی عمل دخل نہ ہو، لیکن اگرمحکمہ نےاس فنڈکے انتظام و انصرام کو چلانے کےلیے ملازمین کی طرف سے کوئی کمیٹی بنادی ہو تو پھر جو کمیٹی ہے وہ ملازمین کی جانب سے نمائندہ اوروکیل ہوگی اور اس کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار ہوگا،لہذا اس رقم کے کمیٹی کے قبضے میں آجانے کے بعد وہ ملازم کی ملکیت شمار ہوگی،اس لئے ملکیت میں آنے کے بعد اگر کمیٹی اس رقم میں سودی معاملات کے ذریعے اضافہ کرے گی تو یہ معاملات خود ملازم کی طرف منسوب ہوں گے اور سود ہونے کی وجہ سے ملازم کے لئے اس اضافی رقم کا لے کر استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"البحر الرائق " (7/ 300):
"(قوله :بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
28/ذی الحجہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


